اس کی محبت میں شراکت بھی نہیں قبول مجھے❤
وہ میرا ہے تو بس خواب بھی میرے دیکھے...........❤
تیری آنکھیں بھی کیا مصیبت ہیں
میں کوئی بات کہنے آیا تها......!!
اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم
یہ بھی بہت ہے، تجھ کو اگر بھول جائیں ہم
کیا روپ دوستی کا، کیا رنگ دشمنی کا
کوئی نہیں جہاں میں، کوئی نہیں کسی کا
آخر کوئی کنارا ، اس سیلِ بے کراں کا؟
آخر کوئی مداوا ، اس دردِ زندگی کا؟
میں تیرے ذکر کے زنداں میں مقید ہوکر________!!
ایک دیوان سخن ایسا قلمبند کروں_______!!
جو سنے ، اس میں تیری دید کی خواہش جاگے__!!
جو پڑھے، تیری اسیری کا بہانہ ڈھونڈے___!!
اے شام کے بھٹکے ہوئے ماہتاب، سنبھل کر
ہر چاند نگلتا ہے یہ تالاب، لگی شرط
اچھا تو وہ تسخیر نہیں ہوتا کسی سے
یہ بات ہے تو آج سے احباب، لگی شرط
فین تو ہمارے بھی بہت ہیں۔۔۔۔ 🙈🙈🙈
۔
۔
۔
۔
۔بس سردی کی وجہ سے بند کیئے ہوئے ہیں۔۔۔ 😂
یہ نام، منصب و دولت، تمہیں مبارک ہوں
میں کب کا چھوڑ چکا ہوں یہ سارے عام سے کام
وہ شاہ جس کا نہیں کوئی کام سہل، اسے
خدانخواستہ پڑ جائے مجھ غلام سے کام
تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹ
زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے
تجھ پہ اٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں
تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے
فیض
نے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹ
زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے
تجھ پہ اٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں
تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے
قطرہ مانگے جو کوئی، تُو اُسے دریا دے دے
مُجھ کو کچھ اور نہ دے، اپنی تمنّا دے دے
میں اِس اعزاز کے لائق تو نہیں ہُوں، لیکن
مُجھ کو ہمسائیگئ گُنبدِ خضرا دے دے
اشعار مرے یوں تو زمانے کیلئے ہیں
کچھ شعر فقط ان کو سنانے کیلئے ہیں
🏵️
بھرے جہاں میں کوئی میرا یار تھا ہی نہیں
کسی نظر کو میرا انتظار تھا ہی نہیں
نہ ڈھونڈئیے میری آنکھوں میں رتجگوں کی تھکن
یہ دل کسی کے لئے بے قرار تھا ہی نہیں
سُنا رہا ہُوں محبت کی داستاں اُس کو
میری وفا پہ جسے اعتبار تھا ہی نہیں
قتیل کیسے ہواؤں سے مانگتے خوشبو
ہماری شام میں ذکرِ بہار تھا ہی نہیں
ہمیشہ تجھ سے تعلق پہ مجھ کو ناز رہا
ہر ایک زخم پہ سو بار مسکرایا ہوں
یہ تو توہین وفا ہے کہ تجھے بھول کے ہم
اپنے زخموں پہ کسی اور سے مرہم چاہیں۔۔۔
عشق کی آگ میں کندن نہ سہی، راکھ سہی
ہم کسی طور نہ اس آنچ کو مدھم چاہیں۔۔۔۔
🏵️
خط کے چھوٹے سے تراشے میں نہیں آئیں گے
غم زیادہ ہیں لفافے میں نہیں آئیں گے
ہم نہ مجنوں ہیں، نہ فرہاد کے کچھ لگتے ہیں
ہم کسی دشت تماشے میں نہیں آئیں گے
مختصر وقت میں یہ بات نہیں ہو سکتی
درد اتنے ہیں خلاصے میں نہیں آئیں گے
اُس کی کچھ خیر خبر ہو تو بتاوْ یارو
ہم کسی اور دلاسے میں نہیں آئیں گے
جس طرح آپ نے بیمار سے رخصت لی ہے
صاف لگتا ہے جنازے میں نہیں آئیں گے
نہیں ملا ہے کوئی تجھ سا آج تک مجھکو....
پھر یہ ستم الگ ہے کہ ملا مجھے تو بھی نہیں....
میری طلب تھا اک شخص , وہ جو نہیں ملا تو پھر
ہاتھ دعا سے یوں گرا کہ بھول گیا ...... سوال بھی
وہ ایسا تو نہیں تھا کہ
مجھے یکسر بھلا ڈالے
نجانے اس پہ کیا گزری
پلٹ کر ہی نہیں آیا
وہ دھوپوں میں تپتی زمینوں پہ سجدے
سفر میں وہ گھوڑوں کی زینوں پہ سجدے
چٹانوں کی اونچی جبینوں پہ سجدے
وہ صحرا بیاباں کے سینوں پہ سجدے
علالت میں سجدے مصیبت میں سجدے
وہ فاقوں میں حاجت میں غربت میں سجدے
وہ جنگوں جدل میں حراست میں سجدے
لگا تیر زخموں کی حالت میں سجدے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain