کیسے ممکن ہے کہ میں تجھ سے جدا ہو جاؤں
تو جو چاہے ترے ہونٹوں کی دعا ہو جاؤں
خواہشیں کیسی ابھر آتی ہیں میرے دل میں
تجھ سے روٹھوں کبھی خود سے ہی خفا ہو جاؤں
ایسے مت دیکھ مجھے مجھ سے ذرا فاصلہ رکھ
یہ نہ ہو میں تری آنکھوں پہ فدا ہو جاؤں
کیا تجھے پھر مری چاہت پہ یقیں آئے گا؟
میں اگر تیری محبت میں فنا ہو جاؤں
روز ملنے کو جو تم فرض سمجھ بیٹھے ہو
کیا کرو گے جو کسی روز قضا ہو جاؤں
ہوئی جاتی ہوں میں ہلکان اسی کوشش میں
جو ترے دل کو لبھائے وہ ادا ہو جاؤں
A+M
Weighting
تیری ہر بات محبت میں گوارا کر کے
دل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارہ کر کے
آتے جاتے ہیں کئی رنگ میرے چہرے پر
لوگ لیتے ہیں مزا ذکر تمہارا کر کے
ایک چنگاری نظر آئی تھی بستی میں اسے
وہ الگ ہٹ گیا آندھی کو اشارہ کر کے
آسمانوں کی طرف پھینک دیا ہے میں نے
چند مٹی کے چراغوں کو ستارہ کر کے
میں وہ دریا ہوں کہ ہر بوند بھنور ہے جس کی
تم نے اچھا ہی کیا مجھ سے کنارہ کر کے
منتظر ہوں کہ ستاروں کی ذرا آنکھ لگے
چاند کو چھت پہ بلا لوں گا اشارہ کر کے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain