یادیں تیرے خلوص کی ڈستی ہیں آج بھی۔ ملنے کی آرزو میں ترستی ہیں آج بھی۔ آنکھیں ہزار ضبط کروں کوشش کے باوجود۔ روک روک کے بار بار برستی ہیں آج بھی۔😭😭😭۔ miss you maa g
رازِ حیات۔ کبھی کبھار ہمیں خزاں کے موسم کی طرح ہونا چاہیے۔ اپنے اندر سے ہر اس چیز کو گرنے دینا چاہیے جو ہمیں تکلیف دیتی ہے۔ تاکہ بہار کے لئے جگہ بن سکے