ہم سے مت پوچھ راستے گھر کے ہم مسافر ھیں زندگی بھر کے کون سورج کی آنکھ سے دن بھر زخم گنتا ہے شب کی چادر کے صلح کر لی یہ سوچ کے میں نے میرے دشمن نہ تھے برابر کے خود سے خیمے جلا دیئے میں نے حوصلے دیکھنا تھے لشکر کے کر جنوں مصلحت نہ اپنائے سر سے رشتے بہت ہیں پتھر کے دوستوں کی زبان تو کھلنے دو بھول جاؤ گے زخم خنجر کے چاند بھی زرد پڑ گیا آخر اجڑے ہوئے آنگن میں روشنی کر کے