آدمی لاکھ ہو مایوس مگر مثل نسیم
رقص کرتا ہے تمناؤں کے گلزاروں میں
راستے وادیٔ و صحرا میں بنا لیتے ہیں
چشمے رک کر نہیں رہ جاتے ہیں کہساروں میں
آنکھوں میں ستارے تو کئی شام سے اترے
پر دل کی اداسی نہ در و بام سے اترے
اوروں کے قصیدے فقط آورد تھے جاناں
جو تجھ پہ کہے شعر وہ الہام سے اترے
تیری خیر ہووے
😐😐
ایک دن میں مر جاؤں گا
تُم کہو گی شکر ہے آج پاگل آف لائن ہیں 🙃🙂





خواہشیں دل کا ساتھ چھوڑ گئیں
یہ اذیت بڑی اذیت ہے













پردیسی پٹا کن جندی رے ہائے جندی رے
ماں کن جندی شاپور اول تیکن ہندی چندی رے
😭😭😭😢😢😢😢


submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain