🍁بس اک میری بات نہیں تھی سب کا درد دسمبر تھا 🍁برف کے شہر میں رہنے والا اک اک فرد دسمبر تھا 🍁پچھلے سال کے آخر میں بھی حیرت میں ہم تینوں تھے 🍁اک میں تھا، اک تنہائی تھی، اک بے درد دسمبر تھا 🍁اپنی اپنی ہمت تھی، اپنی اپنی قسمت تھی 🍁ہاتھ کسی کے نیلے تھے، اور پیلا زرد دسمبر تھا 🍁پھولوں پہ تھا طاری سکتا اور خوشبو سہمی سہمی تھی 🍁خوف زدہ تھا گلشن سارا اور دہشت گرد دسمبر تھا 🍁یہ جو تیری آنکھ میں پانی یہ جو تیری بات میں سردی 🍁اتنا ہمیں بتاؤ تم، کیا ہمدرد دسمبر تھا
اسے کہنا کہ دسمبر جا رہا ہے اور دسمبر کی آخری شام ہے اور دسمبر کے گزرتے ہی برس اک اور ماضی کی فضاؤں میں ڈوب جائے گا 🌷اسے کہنا🌷 کہ دسمبر کے گزرنے سے زرا پہلے محبت ک کہانی کو کوئی تکمیل دے جانا 🌷اسے کہنا🌷 چلتا تھا کبھی ہاتھ میرا تھام کر جس راہ پر کرتا ہے یاد وہ راستہ اسے کہنا 🌷اس کہنا🌷 کہ دسمبر کا مہینہ جیسے ہی گزرے گا امیدیں ڈوب جائیں گی وہ سپنے ٹوٹ جائیں گے. 🌷اسے کہنا🌷 کہ دسمبر کے گزرنے سے زرا پہلے محبت کو کوئی تعبیر دے جائے مقدر کو میرے ڈوب جانے سے بچا لے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain