رنگ موسم کے چرانے کا ہنر آتا ہے
اس کو ہر دل کو لبھانے کا ہنر آتا ہے
آنکھیں پڑھنے میں وہ فنکار بنا پھرتا ہے
اور مجھے خواب چھپانے کا ہنر آتا ہے
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے
عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدتوں میں ہم
قسطوں میں خودکشی کا مزا ہم سے پوچھئے
زندگی یوں ہوئی بسر تنہا
قافلہ ساتھ ہے اور سفر تنہا