ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں۔۔۔ایک میلے میں پہنچا ہُمَکتا ہُوا جی مچلتا تھا ایک اک شے پر مگر۔۔۔جیب خالی تھی، کچھ مول لے نہ سکا۔۔۔لوٹ آیا لیئے حسرتیں سینکڑوں ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں خیر محرومیوں کے وہ دن تو گئے۔۔۔آج میلہ لگا ہے اُسی شان سے آج چاہوں تو ایک اک دکان مول لوں۔۔۔آج چاہوں تو سارا جہاں مول لوں نارسائی کا اب جی میں دھڑکا کہاں پر وہ چھوٹا سا، الہڑ سا لڑکا کہاں __________ ابنِ انشاء __________
*کوئی حد ہوتی ہے بدگمانی کی!!* تھوڑی دیر پہلے اللہ دتہ آیا اور پوچھنے لگا کہ تم نے میری بیوی کو کہیں دیکھا ہے کیا؟ میں نے کہا؛ ہاں۔۔۔ صبح نہاتے ہوئے اسے دیکھا تھا۔۔ بس میرا اتنا کہنا تھا کہ اس نے چپل اتاری اور مجھ غریب کو مارنا شروع کردیا۔ نجانے کیوں اس نے بہت بُری طرح پیٹا اور اول فول بھی بکنے لگا۔ حالانکہ گلی کی نُکڑ والے نلکے پر میں نہا رہا تھا تو بھائی اللہ دتہ کی بیوی وہاں سے گذر رہی تھی اور یہی میں نے اسے بتایا تھا کہ “صبح نہاتے ہوئے اسے دیکھا تھا” ۔ اب آپ ہی بتائیں میں نے کچھ غلط کہا تھا؟؟ 😂😂😂