بن سنور کر وہ جب نکلتے ہیں
می کشی ساتھ ساتھ چلتی ہے
ہار جاتے ہیں جیتنے والے
وہ نظر ایسی چال چلتی ہے
یوں زندگی گزار رہا ہوں تیرے بغیر
جیسے کوئی گناہ کیے جا رہا ہوں میں
میں اپنے آپ سے گھبرا گیا ہوں
مُجھے اے زندگی دیوانہ کردے
چارہ گر بیمارِ غم كو یوں دُعا دینے لگے
اب دوا ہوتی نہیں ہے بس دُعا دینے لگے
میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے
تُو نے جا کر تو جُدائی میری قِسمت کردی
ہم اپنے شام کو جب نذرِ جام کرتے ہیں
ادب سے ہم کو ستارے سلام کرتے ہیں