تمہیں رشک ہے میرے اردگرد کے لوگوں پہ
اور
مجھے یہ دکھ کہ ان میں سے ایک بھی ہمارا نہیں
ہوا کچھ بھی نہیں بس
وہ پردیس میں ہے اور میں اداس ہوں
کاش مجھے ایک قتل کی اجازت ہوتی
تو میں خود کو بڑی بے رحمی سے مارتی
سوچو ذرا وہ لڑکی کیسے سہتی ہو گی اتنے دکھ
جو زیادہ غصہ میں ہو تو رو دیتی ہے
مسکرانے کا وقت گزر گیاصاحب
وقت دفناگیا میرے ذوق بھی ،میرے شوق بھی
کسی کی یاد آۓ اور ہم ان سے بات بھی نہ کر پائیں
ایسے حالات سے گزر رہے ہیں ہم
اسے یہ شکوہ کہ میں اسے سمجھ نہ سکا
اور مجھے یہ مان تھا
کہ میں تو جانتا فقط اسی کو تھا
ماں باپ بہن بھائ جمع کروں تو میکہ کیسا بھی ہو
اس سے اچھا گھر کہیں نہیں مل سکتا
یعنی یہ خاموشی بھی کسی کام کی نہیں
یعنی میں بیاں کر کے بتاؤں میں اداس ہوں
چرچا بہت سنا ہے تیری سخاوت کا
یہ معلوم نہیں تھا درد بھی دل کھول کر دیتے ہو
بے قدری تو ہونی ہی تھی
ہم ہر وقت میسر جو تھے أنھیں
بس تنہا اداس زندگی کا بوجھ اٹھا رہی ہوں
تیری یاد میں دن بہ دن گھٹتی جا رہی ہوں
ذرا سوچ کر دل توڑا کرو صاحب ہر بار ہر گناہ کی بخشش نہیں ہوا کرتی
😶😶😶😶😶
لہجے سمجھ آجاتے ہیں مجھے سب کے
بس دوسروں کو شرمندہ کرنا نہیں آتا مجھے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain