ہم پیمانے بناتے رہتے ہیں لیکن خود کو ماپنے کا وقت نہیں رکھتے… شاید حوصلہ ہی نہیں رکھتے۔ ہم آئینے بناتے ہیں… آئینوں میں خود نہیں جھانکتے۔ ہم توقعات رکھتے ہیں کہ لوگ ہمارے معیار پر پورا اتریں ،ہمارے تقاضوں کو پورا کریں لیکن ہم خود کسی کی خواہش پر پورا نہیں اترتے… ہم اپنی خامیوں کو تقدیر بھی کہہ لیتے ہیں اور اپنی قسمت کو تو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ہم بھی عجب ہیں۔ ہمارے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ہم ایک رات شبینے میں گزارتے ہیں۔ درود و سلام کی مجالس بپا کرتے ہیں۔ مراقبے اور سرور میں محویت تلاش کرتے ہیں۔ اللہ ہمارے قریب ہوتاہے۔ ہم اللہ کے قریب ہوتے ہیں اور دوسری رات دوسری قسم کی رات ہوتی ہے۔ ہم لوگ لوک رس میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ہم پر وجد بھی طاری ہوتا ہے۔ ہمارے پاؤں میں طبلے کی تال پر حرکت بھی ہوتی ہے۔ "واصف علی واصف "