اپنا رشتہ زمیں سے ہی رکھو
کچھ نہیں آسمان میں رکھا
جون ایلیا
دل کی تکلیف کم نہیں کرتے
اب کوئی شکوہ ہم نہیں کرتے
جون ایلیا
عین ممکن ہے ہم جنت میں بھی نہ مل سکیں
یہاں ذات کا مسئلہ وہاں درجات کا دکھ
ترک الفت سے کیا ہوا حاصل
تب بھی مرتے تھے اب بھی مرتے ہیں
آنسو تھا اسکا خاص وہاں پر گراہوا
خط میں جہاں تھا ترکِ تعلق لکھاہوا