کس سے محرومیٔ قسمت کی شکایت کیجے
ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا
جانے ہیں کتنی چوکیاں، عرشِ بریں تلک
جانے کہاں ہماری دعا روک لی گئی؟
چلتے رہیں گے قافلے میرے بغیر بھی یہاں
اک ستارہ ٹوٹ جانے سے فلک تنہا نہیں ہوتا
مجبوری میں نبھائے جانے والے رشتے انسان سے حقیقی خوشیاں چھین لیتے ہیں ۔۔
نصیب ہار جاتا ہے جب دعا تہجد کی ہو اور مہنیہ رمضان کا
یہ مصرعہ نہیں ہے وظیفہ میرا ہے
خدا ہے محبت !!محبت خدا ہے
کہوں کس طرح میں کہ وہ بےوفا ہے
مجھے اس کی مجبوریوں کا پتہ ہے
ہمیشہ میری دعاؤں میں شامل ہو تم
کیونکہ میری پہلی اور آ خری دعا ہو تم
کیوں چلتے چلتے رک گئے ویران راستو
تنہا ہوں آج میں ذرا گھر تک تو ساتھ دو
سارے روزے رکھنے کا ارادہ رکھنے والے الحمدللہ لکھ کر حاضری لگوائیں
محبتیں سلامت رہیں
نفرتوں کو سنبھال لیں گے
اپنی زندگی میں ہر کسی کو ہمیت دو
جو اچھا ہو گا وہ خوشی دے گا
اور جو برا ہو گا وہ سبق دے گا
*لہجے اور الفــــــاظ کی خوبصورتی بن دیکھے انســـان کا دیــوانہ بنا دیتی ہے.
جو ہم پر گزری ہے شاید سب پر گزری ہے
فسانہ جو بھی سُنا۔۔۔۔۔۔سُنا سُنا سا لگا
اپنا ہی سر پکڑ کے یہ پوچھوں کہ کیا ہوا
اپنی ہی نبض دیکھ کے کہہ دوں اداس ہوں
رات آئی تھی تم خواب میں میرے
اتنی فرصت تمہیں ملی کیسے ,,!
انسان اِنسانیت کے درجے سے تب گِرتا ہے، جب وہ کِسی کے خُلوص کو اُس کی کمزوری سمجھ لیتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ پر یقین پختہ رکھ !
رات کے بعد خوبصورت صبح اور خزاں کے بعد بہار اس پاک ذات کا وعدہ ہے۔۔ !
عین ممکن ہے آپ کسی کی دوا نہ بھی بن سکیں کم از کم کسی کا مرض تو نہ بنیں
ممکن نہیں تو کوئی دلاسہ نہ دے مگر
یوں بھی نہ پیش آ کہ تری آس چھوڑ دوں۔
یہ تو نہیں کہ تم سا جہاں میں حسیں نہیں
اس دل کو کیا کروں یہ بہلتا کہیں نہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain