بن کے احساس محبت کے حسیں جذبوں کا
وہ میرے دل میں دھڑکتا ہے غضب کرتا....!!
لا ادھر ہاتھ
کہ ہم درد کی اس ڈوبتی ناؤ سے اتر کر۔۔۔
چلیں اس پار
جہاں کوچہ و بازار نہ ہو
درد کے آثار نہ ہوں۔۔
لپٹ جاؤ__ میری بانہوں میں کہ رات دسمبر هے.
یہ سردی__ کہیں تم کو بیمار نہ کردے______..
*کتنی غور سے دیکھا ہوگا میری نظر نے تمہیں*
*تمہاری بعد کوئی چہرا پسند ہی نہیں ایا مجھے*
قاصد کو جو پڑی گالیان تو مجھ سے آ کر کہا
بہت مھیٹھی ہے ان کی زبان ذرا کھا کر دکھیے
میں دیر کروں تو خدشات لاحق رہیں اس کو
نظر نا آؤں میں ، تو پریشان ہوا کرے کوئی۔
تمام لوگ سمجھتے ہیں سبز پیڑ مجھے
ہوائے زرد کوئی اور دن نہ چھیڑ مجھے
ذرا سا وقت لگا ، خود کو بن لیا میں نے
کہا تھا اتنے سلیقے سے مت ادھیڑ مجھے
سوچا یہ تھا وقت ملا تو ٹوٹی چیزیں جوڑیں گـــے
اب کونے میں ڈھیر لگا ھے باقی کمرہ خالی ھے
بیٹھے بیٹھے پھینک دیا ھے آتش دان میں کیا کیا کچھ
موسم اتنا سرد نہیں ھـــے جتنی آگ جلا لی ھـــــے
اِک کمرہ سازوں سے بھرا ھے ، اِک کمرہ آوازوں ســـے
آنگن میں کچھ خواب پڑے ہیں ، ویسے یہ گھر خالی ھے
دل اور جگر کی بات کئے جا رہے ہیں وہ
کتنے حسین خواب جئے جا رہے ہیں وہ
مدہوش ہو کے باہ میں میری جو آ گئے
دیکھو نشیلے جام پئے جا رہے ہیں وہ
مانگے محبتوں کے سہانے سے خواب تو
حسن و ادا کے رنگ دئے جا رہے ہیں وہ
کہتے ہیں کام آئیں گے راہ_ وفا میں یہ
ہم سے وفا کے درد لئے جا رہے ہیں وہ
دیوانگی کے خواب سہانے بہت مگر
دل پر لگے جو زخم سئے جا رہے ہیں وہ
ہر کسی صورت پہ نہیں جچتی یہ نتھلی
یہ بھی کسی خاص کی دیوانی ہوتی ہے!
تو سنگ دل سہی ، قاتل سہی ، شفیق سہی
قسم خدا کی ڪوئی تجھ سا دوسرا نہ ملا۔
دکھ درد کے ماروں سے میرا ذکر نہ کرنا
گھر جاؤ تو یاروں سے میرا ذکر نہ کرنا
شائد یہ اندھیرے ہی مجھے راہ دکھائیں
اب چاند ستاروں سے۔۔۔۔میرا ذکر نہ کرنا
وہ میری کہانی کو غلط رنگ نہ دیدیں
افسانہ نگاروں سے۔۔۔۔۔میرا ذکر نہ کرنا
وہ شخص ملے تو۔۔۔۔۔۔ اسے ہر بات بتانا
تم صرف اشاروں میں میرا ذکر نہ کرنا
بڑی اُمید تھی کارِ جہاں میں دِل سے مگر
اُسے تو تیری طلب میں خراب ہونا تھا۔۔!
شدید اتنا رہا تیرا انتظار مجھے !!
کہ وقت مِنّتیں کرتا رہا، "گزار مجھے"
چلا میں روٹھ کر آواز تک نہ دی اس نے !!
میں دل میں چیخ کے کہتا رہا، "پکار مجھے"
دل کے معاملات سے انجان تو نہ تھا
اس گھر کا فرد تھا کوئی مہمان تو نہ تھا
تھیں جن کے دَم سے رونقیں شہروں میں جا بسے
ورنہ ہمارا گاؤں یوں ویران تو نہ تھا
بانہوں میں جب لیا اسے نادان تھا ضرور
جب چھوڑ کر گیا مجھے نادان تو نہ تھا
کٹ تو گیا ہے کیسے کٹا یہ نہ پوچِھیے
یارو! سفر حیات کا آسان تو نہ تھا
نیلام گھر بنایا نہیں اپنی ذات کو
کمزور اس قدر میرا ایمان تو نہ تھا
رسماً ہی آ کے پوچھتا حالِ دل
کچھ اس میں اس کی ذات کا نقصان تو نہ تھا
اب خاک اُڑ رہی ہے یہاں انتظار کی
اے دل یہ بام و دَر کسی جانِ جہاں کہ تھے
لوگ پریشان ہیں میری خاموشی سے،
میں پریشان ہوں اپنے اندر کے شور سے!
"جنون ہوتا ہے ہر عمر میں "جدا جدا"
"کھلونے، عشق ، پیسہ اور پھر "خدا خدا"
بدگمـاں مجھ سے نہ اے فصل بہاراں ہونا
میری عادت ہے خزاں میں بھی گل افشاں ہونا
میرے وجدان نے محســـوس کیا ہے اکثـــر
تیــری خاموش نگاہوں کا غـــزل خواں ہونا
یہ ترے بعد ستاتا ہے تسلسل سے مجھے
میں نے اک روز گلا 'دل' کا دبا دینا ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain