پارسا بھی بھٹک گئے اکثر
کچھ کشش تو ہے گنہگاروں میں.
میــَِ٘ـری ســـٌِادہ ســَِ٘ـی مسکـــٌِراہٹ مـــٌِیں
تمـــٌِہاری چاہـــٌِت کـــٌِے رنگ بولتـــٌِے ہیں.!
ترس جاٶ گے میری شکل دیکھنے کو۔۔۔
ایک بار مجھے پیسے ادھار دے کے تو دیکھو۔۔۔
ارادہ تو یہ ہے کہ صرف باتیں کریں گے
پچھلی ملاقات کی طرح بہک گے تو معذرت
کیسے میں ہر کسی کا حصہ کرو
دل تو بس اک انسان کے لیئے ہوتا ہے
میں محبت کرت ہوں ٹوٹ کر کرتا ہوں
یہ کام مجھے ضرورت کے مطابق نہیں اتا
لفظ پھولوں کی طرح چُن کر تجھے دان کروں
تجھ پر جچتے ہیں سبھی نام محبت والے
سورج کو چڑھتے ہوئے شرم آتی ہے عدم..
اف!! کیا تابناک چیز ہیں یہ اٹھتی جوانیاں...
اٹھو یہ منظر _ شب تاب دیکھنے کیلئے
کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کیلئے
عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا
مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کیلئے_!
ہر روز ڈھلتی شام کے ساتھ ہی
تیری یاد دبے پاؤں آ جاتی ہے
میری دہلیز پر
پھر
کچھ یادیں ہوتی ہیں
اور شام کا حسین منظر ہوتا ہے
نہ بے دلی نہ تعلق میں کچھ تپاک رہا ...
ہمارے بیچ بڑا معتبر "مذاق"رہا ...
وہ ساتھ رہ کے بھی تنہا مجھے سمجھتا رہا ...
میں جفت ہو کے بھی ہر زاویے سے طاق رہا ...
میرا آدھا مسئلہ یہ ہے کہ میں زیادہ نہیں بولتا، اور باقی آدھا یہ ہے کہ جب میں بولتا ہوں تو الفاظ وہ نہیں لگتے جو میں کہنا چاہتا ہوں ...
sar kiye yeah pahar daryaon ki geharion main tujhy dhonda hai a bhi ja aik bar mery yar aisy na loto mery maan ka qarar
بڑی مختصر خوشی تو بڑا صبر آزما میں
تو وقتِ عصر گویا میں قیامِ حشر شاید
شعلہ تھا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو،
میں کب کا جا چکا ہوں صدائیں مجھے نہ دو...!
جو زہر پی چکا ہوں تمہیں نے مجھے دیا،
اب تم تو زندگی کی دعائیں مجھے نہ دو...!
یہ بھی بڑا کرم ہے سلامت ہے جسم ابھی،
اے خسروانِ شہر قبائیں مجھے نہ دو...!
ایسا نہ ہو کبھی کہ پلٹ کر نہ آ سکوں،
ہر بار دور جا کے صدائیں مجھے نہ دو...!
کب مجھ کو اعتراف محبت نہ تھا فرازؔ،
کب میں نے یہ کہا ہے سزائیں مجھے نہ دو...!
اول تو میرے حصے میں آتے ہی نہیں لوگ
اور آئیں بھی تو پورے کے پورے نہیں آتے
اِن گُلابوں کی مخبری کی جائے
اِتنی خُوشبو کہاں سے لاتے ہیں
تُم بھی شَاید وہیں سے آئے ھو
اَچھے مُوسم جہاں سے آتے ہیں
اپنی تعمیر اٹھاتے تو کوئی بات بھی تھی
تم نے اک عمر گنوا لی مری مسماری میں
وہ بادشاہ سخن ہے تو اپنے گھر ہو گا
خیال و خواب پہ اُس کا کوئی اِجارہ نہیں
سپولئیےبھی چھپے ہیں سخن سراؤں میں
پر اُن کے زہر نے اب تک ہم کو مارا نہیں
گناہ کروا رہا ھے مجھ سے تعلق اُسکا
نماز تو پڑھ رہا ہوں میں،لیکن آیتیں بھول جاتا ہوں۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain