یہ تمنا ہے کہ آزاد تمنا ہی رہوں
دل مایوس کو مانوس تمنا نہ بنا
اب مجھے ہوش کی دنیا میں تماشا نہ بنا
شکر ہے کہ ہم پر کوئی قید و بند نہیں
زندگی کسی کے حکم کی پابند نہیں
جو غلام سانس بھی لیتے تھے اِذن سے
شکر ہے کہ ہم پر کوئی حکمِ کمند نہیں
رات کے خواب سنائیں کس کو رات کے خواب سہانے تھے
دھندلے دھندلے چہرے تھے پر سب جانے پہچانے تھے
ہم کو ساری رات جگایا جلتے بجھتے تاروں نے
ہم کیوں ان کے در پر اترے کتنے اور ٹھکانے تھے
یوں بھلا چھوڑ دیا کرتے ہیں اپنا کر کے
تونے تو مار دیا ہے مجھے تنہا کر کے
رات ایک کہانی ہے جو صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس نے اسے جیا ہو، ہم سب ایک ہی رات کے نیچے رہتے ہیں، لیکن ہر ایک کی اپنی کہانی اور امید کی روشنی ہوتی ہے۔
پوچھا کہ کیوں ہے وصل کی خواہش شدید تر!!
بولے! بیٹھا کے سامنے دیکھیں گے اور کیا.........!!
ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮨﻢ.
ﺩﻝ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﺠﺮﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ.
ﻟﻮﺡِ ﺩﻝ ﭘﺮ ﯾﮩﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻟﮑﮭﯽ ﮨﮯ .
ﻋﺸﻖ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ.
میرے احباب مُجھے لُوٹ کے نِکلے ہیں ابھی
میرے دشمن تُجھے اس بار بھی تاخیر ہوئی
"کون پُرسانے حال ہے میرا ،،
"زندہ رہنا کماااااال ہےمیرا ،،
"تُو نَہیں تو تیرا خیال صحیح ،،
"کوئی تو ہم خیااااااال ہے میرا ۔۔
ہم کو منظور نہیں پھر سے بچھڑنے کا عذاب
اس لیے تجھ سے ملاقات نہیں چاہتے ہیں
کب تلک در پہ کھڑے رہنا ہے، اُن سے پوچھو
کیا وہ محشر کا تماشہ بھی یہیں چاہتے ہیں؟
کُچھ درد کی شِدت ہے، کُچھ پاسِ محبت ہے
ہم آہ تو کرتے ہیں ، فریاد نہیں کرتے
اَے ”حَرفِ تَسَلی“ تیرے __مَشکُور ہَیں لیکن
یہ ”خَیر ہَے“ _کہنے سے بُہَت آگے کا دُکھ ہَے
کسی کو کچھ نہ بتائیں گے تیرے بارے میں
کوئی پوچھے گا تو ہم صاف مُکر جائیں گے
ہم تیری قیدِ سلاسل کے سبب زندہ ہیں
تیری تحویل سے جائیں گے تو مر جائیں گے
پھولوں کی پتیوں پہ ہیں شبنم کے نقش پا
رہ رہ کے دکھ رہے ہیں یہ مرہم کے نقش پا
جواز کونسا دوں گا بچھڑ کے لوگوں کو،
تمہارے بعد تو سب کے سوال نوچتے ہیں
تمہاری یاد دل میں چٹکیاں یوں لیتی ہے،
کہ جیسے پیار سے بچوں کے گال نوچتے ہیں
Allah Hafiz😁
میں تو سمجھتا تھا کہ تم مجھے سمجھو گی لیکن افسوس کہ تم بھی دنیا داری کر گئی میرے ساتھ
بدگمـاں مجھ سے نہ اے فصل بہاراں ہونا
میری عادت ہے خزاں میں بھی گل افشاں ہونا
میرے وجدان نے محســـوس کیا ہے اکثـــر
تیــری خاموش نگاہوں کا غـــزل خواں ہونا
فقیر کہہ گیا مجھ کو تُو سر کا صدقہ دے
فقیر دیکھ چکا تھا زوال ماتھے پر
" اب بھلا پھر سے تیری باتوں میں آؤں کیسے!!
عشق تو تُمہارے لِیے وقت گُزاری تھا کبھی..!!
ٹھہر جا رُک تُجھے پہچانتی ہے آنکھ میری..!!
تُمہارا چہرہ میرے اعصاب پہ تاری تھا کبھی..!!
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain