کسی سے روز بات کرنا اور پھر اچانک یہ سلسلہ رک جانا اپنے آپ میں ہی ایک بہت بڑی اذیت ہوتی ہے بندا اس سے بات کرنا بھی چاہتا ہے لیکن جب پتا ہوتا ہے کہ اگلے بندے نے آپ کو اس طرح سے رسپانس نہیں دینا جس طرح سے پہلے دیتا تھا تو آپ چاہ کر بھی بات نہیں کر سکتے اچھے روئیے جب اچانک انجان رویوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں تو اس اذیت سے نہ انسان نکل سکتا ہے اور نہ 😏ہی کھل کر سانس لے پاتا ہے
ایک بات کہوں ان بیٹیوں کو ہنسنے سے بولنے سے پاگل پن سے نہ روکا کریں ، ان کو مسکرانے دیا کریں اگر سارا گھر سر پہ اٹھا لیں تو بھی کچھ نہ کہا کریں ، بھائیوں کے ساتھ مذاق کریں تو بھی کرنے دیا کریں مقدر کے کھیل بڑے انوکھے ہوا کرتے ہیں جب تقدیر کا تھپڑ وجود پر پڑتا ہے ناں تو یہی لڑکیاں ، یہی بیٹیاں ، یہی شہزادیاں ، یہی بہنیں ، مسکرانا تو دور کی بات ہے بولنا تک بھول جاتی ہیں اور یہ وقت سب سے بڑا ظالم ہے جو ان کے وجود سے خوشیوں کو نچوڑ کر لے جاتا ہے اور کبھی واپس نہیں لوٹاتا پھر ان کے پاس فقط آنسو بچتے ہیں یہ نصیب سے ہار جاتی ہیں😥🖤🥀
انسان جتنا بھی باشعور کیوں نہ ہو جائے اسے ایک ایسے انسان کی ضرورت ہمیشہ رہتی ھے جس سے وہ بچوں کی طرح ضد کر سکے. اپنی بات منوا سکے،اپنے لاڈ اٹھوا سکے جو اس کی تھکاوٹ کو اپنی ہنسی سے اتار سکے یہ ضرورت ہر ذی شعور انسان کو ہوتی ھے مگر اس کا اظہار بہت کم لوگ کر پاتے ہیں _🥀🖤