میں کہاں واقف تھا محبت کی اذیت سے
مجھے لگا جو جسکا ہوتا ہے اسی کا رہتا ہے
🙂
آنکھیں بند کرکے تمہیں محسوس کرنے کے علاوہ
میرے پاس تم سے ملنے کا کوئی راستہ نہیں
پھرتے ہیں میرؔ خوار کوئی پوچھتا نہیں
اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی
دل کی تکلیف کم نہیں کرتے
اب کوئی شکوہ ہم نہیں کرتے
یہ مت سمجھنا کہ کوئی اور مل گیا مجھے
تیـــرے ہی لئے تجھے چھوڑ رہا ہــــوں
Allah Hafiz 👋🏻🚶🏻
کافی عرصہ______بیت گیا ہے
جانے اب وہ_____ کیسا ہوگا۔؟
وقت کی ساری___کڑوی باتیں
چپکے چپکے______سہتا ہو گا
اب بھی بھیگی_بارش میں وہ
بن چھتری کے____ چلتا ہو گا
مجھ سے بچھڑے_ عرصہ بیتا
اب وہ کس سے_____لڑتا ہوگا
اچھا تھا جو__ساتھ ہی رہتے
بعد میں اس نے__سوچا ہوگا
اپنے دل کی____ ساری باتیں
خود سے خود ہی__کہتا ہوگا
کافی عرصہ______بیت گیا ہے
جانے اب وہ_____کیسا ہوگا۔؟
بارشوں کے موسم میں
دل کی سر زمینوں پر
گرد کیوں بکھرتی ہے؟
اس طرح کے موسم میں
پھول کیوں نہیں کھلتے؟
لوگ کیوں نہیں ملتے؟
کیوں فقط یہ تنہائی
ساتھ ساتھ رہتی ہے؟
کیوں بچھڑنے والوں کی
یاد ساتھ رہتی ہے؟
اتنی تیز بارش سے
دل کے آئینے پر سے
عکس کیوں نہیں دھلتے؟
زخم کیوں نہیں سلتے؟
نیند کیوں نہی آتی؟
بارشوں کے موسم میں
آنکھ کیوں برستی ہے؟
اشک کیوں نہیں تھمتے؟
بارشوں کے موسم میں
لوگ کیوں نہیں ملتے؟
بارش___
ہواؤں کی سنسناہٹ_____
مٹی کی خوشبو_____
کھڑکی پر دستک دیتی بارش کی بوندیں؛
مہکتی ہوئی خُوشبو
چائے کا کپ___
شاعری کی کتاب
دریچہ____
تنہائی____
اور بیتی ہوئی یادیں
کہنے کو جدا جدا..... مگر
جچتے ہیں اک ساتھ
بارش ، شاعری، میں چاۓ اور تم ❤
کھڑکیاں کھول رہا تھا کہ ہوا آئے گی... 🥀
کیا خبر تھی کہ چراغوں کو نگل جائے گی. 🥀
مجھ کو اِس واسطے بارش نہیں اچھی لگتی🥀
جب بھی آئے گی کوئی یاد اُٹھا لائے گی۔۔۔ 🥀
ﮨﺘﮫ ﭘﮑﮍ ﻃﺒﯿﺒﺎ ﻣﺮﺽ ﻧﮧ ﭘﭽﮫ
ﻧﮧ ﻋﺮﻕ ﭘﻼ ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﺞ ﻭﯼ نئی
ﻧﮧ ﮐﺮ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﺩﻭﺍﺋﯿﺎﮞ ﻧﻮﮞ
ﻧﮧ ﭨﯿﮑﮯ ﻻ ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﺞ ﻭﯼ نئی
ﻣﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﺩﮮ ﻭﭺ ﺑﯿﻤﺎﺭ پئیا
ﻧﮧ ﺷﻮﺭ ﻣﭽﺎ ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﺞ ﻭﯼ نئی
ﺟﮯ ﻣﺮﺽ ﻣﯿﺮے ﺗﻮﮞ ﭘﭽﮭﺪﺍ ﺍﯾﮟ
ﻣﯿﻨﻮﮞ ﯾﺎﺭ ﻣﻼ ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﺞ ﻭﯼ نئی
گلابوں کے ہونٹوں پہ لب رکھ رہا ہوں
اسے دیر تک سوچنا چاہتا ہوں
😘🦋
تجھ کو خبر کہاں کہ ترے نچلے ہونٹ میں
ایٹم کے لاکھ حملوں سے بڑھ کر تباہی ہے
وہ بات کرتے ہوئے کتنی بار ہنستی تھی
میں یاد رکھتا تھا ۔۔۔ پھر اسے بتاتا تھا
تیرے سوا کسی کی تمنا کروں گا میں
ایسا کبھی ہوا ہے جو ایسا کروں گا میں
گو غم عزیز ہے مجھے تیرے فراق کا
پھر بھی اس امتحان کا شکوہ کروں گا میں
یعنی کچھ اس طرح کہ تجھے بھی خبر نہ ہو
اس احتیاط سے تجھے دیکھ کروں گا میں
🦋🩷
نہیں تھا اعتبار اس کو میری مخلصی پر
کھو دیا اس نے مجھے آزماتے آزماتے
تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتار دو
میں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو
مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک سکیں مرے خال و خد
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دو مرے سارے رنگ اتار دو
کسی اور کو مرے حال سے نہ غرض ہے کوئی نہ واسطہ
میں بکھرگیا ہوں سمیٹ لو میں بگڑ گیا ہوں سنوار دو
🦋
یوں ہی رکھوگے امتحاں میں کیا
نہیں آئے گی جان جاں میں کیا
کیوں صدا کا نہیں جواب آتا
کوئی رہتا نہیں مکاں میں کیا
اک زمانہ ہے روبرو میرے
تم نہ آؤ گے درمیاں میں کیا
وہ جو قصے دلوں کے اندر ہیں
وہ بھی لاؤ گے درمیاں میں کیا
کس قدر تلخیاں ہیں لہجے میں
زہر بوتے ہو تم زباں میں کیا
دل کو شکوہ نہیں کوئی تم سے
ہم نے رہنا نہیں جہاں میں کیا
وہ جو اک لفظ اعتبار کا تھا
اب نہیں ہے وہ درمیاں میں کیا
میرے خوابوں کے جو پرندے تھے
ہیں ابھی تک تری اماں میں کیا
یہ بکھیڑا جو زندگی کا ہے
چھوڑ دوں اس کو درمیاں میں کیا
چند وعدے تھے چند دعوے تھے
اور رکھا تھا داستاں میں کیا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain