ہر اک جانب اداسی ہے ابھی سوچیں تو کیا سوچیں ہر اک سو ہو کا عالم ہے ابھی بولیں تو کیا بولیں ہر اک انسان پتھر ہے ابھی دھڑکیں تو کیا دھڑکیں فضا پر نیند طاری ہے ابھی جاگیں تو کیا جاگیں ہر اک انسان کا سایا ابھی مٹی پہ بھاری ہے ابھی لکھیں تو کیا لکھیں
زندگی جب سلگنے لگے تنہائیوں سے الجھنے لگے سسکنے لگے اور تڑپنے لگے بہکنے لگے اور بھٹکنے لگے موت بن جائے آنکھوں میں، چبھنے لگے اِک سجدہ کرو رب کے آگے وہیں پاس ہے منزل کہیں، یہ راہ مشکل نہیں