اس دیری میں دراصل بہتری کا راز پوشیدہ ہے
شاخیں اگر رہیں تو پتّے بھی آئیں گے
یہ دن اگر برے ہیں تو اچھے بھی آئیں گے
ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی
نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ
اب اس پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے
(عمیر نجمی)
جٹ دے کہے تے سرکار ہِلدی
ترے دل نو ہلونا کوئی وڈّی گل نئیں
Or phirr Khuda Khuda
ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکن
........
اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے
Darhaqiqat insan baray khasaaray mein hai.
Tum apni karni kar guzro
