اب وہی حرفِ جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے جو بھی چل نکلی ہے، وہ بات کہاں ٹھہری ہے؟ وصل کی شب تھی تو کس درجہ سبک گزری ہجر کی شب ہے تو، کیا سخت گراں ٹھہری ہے! فیض احمد فیض
ممکن ہے مجھے بے شمار پریشانیوں اور گہری مایوسیوں کا سامنا کرنا پڑے، مگر میں نے یہ عزم کر لیا ہے کہ ہر حال میں سب کے ساتھ شائستگی اور خلوص سے پیش آؤں گا۔ مجھ سے اس سے زیادہ کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ 😊❤️🫴
#جَنَّت فاطمہ تیڈے ہجر اچ بُت بے ساہ تھی گئے روح قُرب دی چاہ اچ گل گئی اے تیڈی گول اچ خوش تھی نکھتوں پر ساڈی رونق راہ اچ گل گئی اے میڈا بھرم رکھیندیں ہنج اکھ دی محفوظ پناہ اچ گل گئی اے تیڈے غم اچ فاخر رو رو کے میڈی زندگی آہ اچ گل گئی اے