ایک دل ہے کہ بسایا نہیں جاتا ہم سے
لوگ صحراؤں کو گلزار بنا دیتے ہیں
!.اپنی بےکار تمناؤں پہ شرمندہ ہوں میں
غمِ خاص پہ کبھی چپ رہے
کبھی رو دیے غمِ عام پر
عاجزی سے لے کر غرور تک دیکھا
اک تیری نظر میں جو مسترد ٹھہرے
پھر کسی نظر میں کمال ٹھہرے تو کیا ٹھہرے
!..یہ سہانی سی ڈگر
!..مشکل الوداع
!..تیرا انتظار
کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں
یہ تمنا ہے کہ آزاد تمنا ہی رہوں
ابھی نہ جاؤ چھوڑ کے
What's coming..?
For you a thousand times over..!