دسمبر جانے والا ہے چلو اک کام کرتے ہیں۔۔۔ پرانے باب بند کر کے نظر انداز کرتے ہیں نئے سپنے سبھی سجا کر الفت کے راستے چن کر وفاداری پہ جینے کی راہیں ہموار کرتے ہیں بھلا کر رنجشیں ساری مٹا کر نفرتیں دِل سے معافی دے دلا کر اب دِل اپنے صاف کرتے ہیں جہاں پر ہوں سبھی مخلص نہ ہو دِل کا کوئی مفلس اک ایسی بستی اپنوں کی کہیں اباد کرتے ہیں جو غم دیتے نہ ہوں گہرے ہوں سانجھی سب وہاں ٹھہرے سب ایسے ہی مکینوں سے مکاں کی بات کرتے ہیں نہ دیکھا ہو زمانے میں نا پڑھا ہو فسانے میں اب ایسے جنوری کا ہم سبھی آغاز کرتے ہیں