کوئی ایسا اہل دل ہو کہ فسانہ محبت
میں اسے سنا کے روؤں وہ مجھے سنا کے روئے
قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو
کہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے
قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے
دل وہ بے مہر کہ رونے کے بہانے مانگے
ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے
خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے
یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیے
اب یہی ترک تعلق کے بہانے مانگے
اپنا یہ حال کہ جی ہار چکے لٹ بھی چکے
اور محبت وہی انداز پرانے مانگے
زندگی ہم ترے داغوں سے رہے شرمندہ
اور تو ہے کہ سدا آئینہ خانے مانگے
دل کسی حال پہ قانع ہی نہیں جان فرازؔ
مل گئے تم بھی تو کیا اور نہ جانے مانگے
غیر کی باتوں کا آخر اعتبار آ ہی گیا
میری جانب سے تِرے دل میں غبار آ ہی گیا
جانتا تھا کھا رہا ہے بے وفا جھوٹی قسم
سادگی دیکھو کہ پھر بھی اعتبار آ ہی گیا
پوچھنے والوں سے گو میں نے چھپایا دل کا راز
پھر بھی تیرا نام لب پر ایک بار آ ہی گیا
تُو نہ آیا او وفا دشمن! تو کیا ہم مر گئے
چند دن تڑپا کیے آخر قرار آ ہی گیا
جی میں تھا اے حشرؔ اس سے اب نہ بولیں گے کبھی
سامنے جب بے وفا آیا تو پیار آ ہی گیا
تمہیں دیکھیں میری آنکھیں
اس میں کیا میری خطا ہے
اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے
زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے
یہ ہنستا ہوا چاند یہ پر نور ستارے
تابندہ و پایندہ ہیں ذروں کے سہارے
حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے
ارماں ہے کوئی پھول ہمیں دل سے پکارے
ہر صبح مری صبح پہ روتی رہی شبنم
ہر رات مری رات پہ ہنستے رہے تارے
کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غم جاناں
کب تک کوئی الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے
دن اندھیروں کی طلب میں گزرا
رات کو شمع جلا دی ہم نے
کوئی کسی کو چاہے تو کیوں گناہ سمجھتے ہیں لوگ
جو کہتا ہوں مانا تمہیں لگتا ہے بُرا سا
پھر بھی ہے مجھے تُم سے بہر حال گِلا سا
چُپ چاپ رہے دیکھتے تُم عرشِ بریں پر
تپتے ہوئے کربل میں محمد کا نواسا
کِس طرح پِلاتا تھا لہو اپنا وفا کو
خود تین دنوں سے وہ اگر چہ تھا پیاسا
دشمن تو بہر طور تھے دشمن مگر افسوس
تُم نے بھی فراہم نہ کیا پانی ذرا سا
ہر ظلم کی توفیق ہے ظالم کی وراثت
مظلوم کے حصے میں تسلی نہ دلاسا
کل تاج سجا دیکھا تھا جِس شخص کے سر پر
ہے آج اُسی شخص کے ہاتھوں ہی میں کاسہ
یہ کیا ہے اگر پوچھوں تو کہتے ہو جوابأّ
اِس راز سے ہو سکتا نہیں کوئی شناسا
تُم اِک گورکھ دھندا ہو
Zama hm so raqeeban di kho hinduwan dii
Pa jinay bande periyan di kho hinduwan dii
ہونٹوں پہ کبھی اس کے میرا نام تو آئے
بھجا دو آگ دل کی یا اسے کھل کر ہوا دے دو
جو اس کا مول دے پائے اسے اپنی وفا دے دو
تمہارے دل میں کیا ہے جو اتنا پتا دے دو
کہ اب تنہا سفر کٹتا نہیں ہم کیا کریں
تمہی کہہ دو اب اے جانے وفا ہم کیا کریں
zroona takhtaoma Za yam BeBo🤣🤣
روگ ہجر دا مار مکاوے
سکھ دا کوئی سا نا آوے
کوئی تو ایسا ہو
جو اندر سے باہر جیسا ہو
چراغِ چِشت شاہِ اولیاء
غریب نواز
وقت پہ کام نہیں آتے
یہ جانے پہچانے لوگ
جے دے قدماں اُتے
رکھے حُسین سر
او صاحبِ حیاء اے ماں حُسین دی
Ta che Saba ukru Saba na Razi
Rashi pa har Cha kho pa Ma na Razi
کبھی تھک کے سو گئے ہم
کبھی رات بھر نا سوئے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain