جگ راج کو تاج تورے سر سو
ہے تجھ کو شہ دوسرا جانا
منتیں پوری ہوں یا نا ہوں
در نہیں بدلے جاتے
اگر مجھ سے محبت ہے
مجھے سب اپنے غم دے دو
ان آنکھوں کا ہر اک آنسو
مجھے میری قسم دے دو
ہم نہ باز آئینگے محبت سے
جان جائے گی اور کیا ہو گا
Kabhi thak ky so gaye hum
kabhi rat bhar na soye
Kbhi hans k ghum chupaya
kabhi moo chupa k roye
Meri dastan e hasrat wo suna suna k roye
Mere Aazmane wale mujhe Aazma k roye
ایک تو لہجہ اس قدر شیریں
پھر بولتی بھی اردو ہو
جو ڈوبنا ہے تو اتنے سکون سے ڈوبو
کہ آس پاس کی لہروں کو بھی پتا نا چلے
راز الفت چھپا کے دیکھ لیا
دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا
اور کیا دیکھنے کو باقی ہے
آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا
وہ مرے ہو کے بھی مرے نہ ہوئے
ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا
آج ان کی نظر میں کچھ ہم نے
سب کی نظریں بچا کے دیکھ لیا
فیضؔ تکمیل غم بھی ہو نہ سکی
عشق کو آزما کے دیکھ لیا
Tumhare shehar ka mausam
Bara suhana lage
Main ek shaam chura loon
Agar bura na lage
Tumhare bas mein agar
Ho toh bhool jaao humain
Tumhein bhoolane mein shayad
humain zamana lage
Ek Soch Aqal Se Phisalgai Mujhay Yaad Thi Ke Badal Gai Meri Soch Thi Ke Wo Khawab Tha Meri Zindagi Ka Hisaab Tha
Ye Inayatain Ghazab ki
ye balaa ki Mehrbani
Meri khairyat bhi poochi
kisi or ki zabani
Meri be Zuban Ankhon se gire jo chand qatre
Jo samjh sake to Aansu Na smjh sake to Paani
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں
یہ کام کس نے کیا ہے یہ کام کس کا تھا
وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے
تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا
رہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا
مقیم کون ہوا ہے مقام کس کا تھا
قبلہ کبھی تو تازہ سخن بھی کریں عطا
یہ چار پانچ غزلیں ہی کب تک سنائیں گے
آگے تو آنے دیجئے رستہ تو چھوڑیئے
ہم کون ہیں یہ سامنے آ کر بتائیں گے
یہ اہتمام اور کسی کے لئے نہیں
طعنے تمہارے نام کے ہم پر ہی آئیں گے
پہلے پہل لڑیں گے تمسخر اڑائیں گے
جب عشق دیکھ لیں گے تو سر پر بٹھائیں گے
تو تو پھر اپنی جان ہے تیرا تو ذکر کیا
ہم تیرے دوستوں کے بھی نخرے اٹھائیں گے
jaane is dil ka haal kya hoga
Tera waada agar wafa hoga
whatsapp ho ya Zindagi
.
.
.
Log Sirf status dekhte hain
تم مخاطب بھی ہو قریب بھی ہو
تم کو دیکھیں کہ تم سے بات کریں
سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں
لیکن اس ترک محبت کا بھروسا بھی نہیں
اک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تمہیں ایسا بھی نہیں
گفتم کہ شیریں از شکر
گفتا کہ رخصار من است
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain