ساتھ شوخی کے کچھ حجاب بھی ہے
اس ادا کا کوئی جواب بھی ہے
میں تیرا کچھ بھی نہیں ہوں مگر اتنا تو بتا
دیکھ کر مجھ کو تیرے ذیہن میں آتا کیا ہے
دیکھنا حشر میں جب تم پہ مچل جاوں گا
میں بھی کیا وعدہ تمہارا ہوں کہ ٹل جاوں گا
سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں
سنا ہے رات میں جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
حیدریم قلندرم مستم
بندہ مرتضی علی ہستم
پیشوا ئے تمام رندانم
کہ سگے کوئے شیر یزدانم
وہ جو کہتے تھے بچھڑیں گے نا ہم کبھی
لاپتہ ہو گئے دیکھتے دیکھتے
wo mere samne youn hi baitha raha
or main hoon k bas dekhta reh gya
وہ تو خشبو ہے ہواوں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا
ہر ایک بات پہ کہتے ہو کہ تو کیا ہے
تم ہی بتاو یہ انداز گفتگو کیا ہے
میں ستی پئی نو جگایا ماہی
میں ترا کچھ بھی نہیں ہوں مگر اتنا تو بتا
دیکھ کر مجھ کو ترے ذہن میں آتا کیا ہے
تیرا احساس ذرا سا تری ہستی پایاب
تو سمندر کی طرح شور مچاتا کیا ہے
تجھ میں کس بل ہے تو دنیا کو بہا کر لے جا
چائے کی پیالی میں طوفان اٹھاتا کیا ہے
تیری آواز کا جادو نہ چلے گا ان پر
جاگنے والوں کو شہزادؔ جگاتا کیا ہے
اپنی تصویر کو آنکھوں سے لگاتا کیا ہے
اک نظر میری طرف بھی ترا جاتا کیا ہے
میری رسوائی میں وہ بھی ہیں برابر کے شریک
میرے قصے مرے یاروں کو سناتا کیا ہے
پاس رہ کر بھی نہ پہچان سکا تو مجھ کو
دور سے دیکھ کے اب ہاتھ ہلاتا کیا ہے
ذہن کے پردوں پہ منزل کے ہیولے نہ بنا
غور سے دیکھتا جا راہ میں آتا کیا ہے
زخم دل جرم نہیں توڑ بھی دے مہر سکوت
جو تجھے جانتے ہیں ان سے چھپاتا کیا ہے
سفر شوق میں کیوں کانپتے ہیں پاؤں ترے
آنکھ رکھتا ہے تو پھر آنکھ چراتا کیا ہے
عمر بھر اپنے گریباں سے الجھنے والے
تو مجھے میرے ہی سائے سے ڈراتا کیا ہے
چاندنی دیکھ کے چہرے کو چھپانے والے
دھوپ میں بیٹھ کے اب بال سکھاتا کیا ہے
مر گئے پیاس کے مارے تو اٹھا ابر کرم
بجھ گئی بزم تو اب شمع جلاتا کیا ہے
اک درد دنیا دا
دوجی تنگ سجنا دی
تیجی عمر بھی بیت دی جاوے
پنج پا پا روواں
تینوں ترس تاں نا آوے
دے دے موت وچھوڑے نالو
تیری مشکل حل ہو جاوے
یار فرید اودے پیر میں چماں
جہیڑا وچھڑا یار ملاوے
لا می چہ زڑگی تہ رانزدے نہ وے
لا مو چہ ترمنزہ فاصلے نہ وے
ہم نے تو بس کلیاں مانگی
کانٹوں کا ہار ملا
جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کے
پیار کو پیار ملا
جو نہ مل سکے وہ ہی بے وفا
یہ بڑی عجیب سی بات ہے
جو چلا گیا مجھے چھوڑ کر
وہ ہی آج تک میرے ساتھ ہے
چلیں تو کٹ ہی جائے گا سفر
آہستہ آہستہ
جام ایسا تیری آنکھوں سے عطا ہو جاۓ
ہوش موجود رہیں اور نشہ ہو جاۓ
۔
اس طرح میری طرف میر ا مسیحا دیکھے
درد دل ہی میں رہےاور دوا ہو جاۓ
Mera naam tak jo na le saka
Jo mujhe qaraar na de saka
Jissey ikhtiyaar to tha magar
Mujhe apna pyar na de saka
Wohi shaks mairi talaash hai
Wohi dard mairi hayyaat hai
Jo chala giya mujhe chor kar
Wohi aaj tak mere saath hai
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain