Damadam.pk
Garammizaj's posts | Damadam

Garammizaj's posts:

Garammizaj
 

وہ مہرباں ہے تو اقرار کیوں نہیں کرتا
وہ بدگماں ہے تو سو بار آزمائے مجھے

Garammizaj
 

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ نا پائیدار میں

Garammizaj
 

بندہ تیرے وجود کا منکر نہیں مگر
دنیا نے کیا دیئے ہیں سبق اے خدا نہ پوچھ

Garammizaj
 

رہتا نہیں ہے دہر میں جب کوئی آسرا
اس وقت آدمی پہ گزرتی ہے کیا نہ پوچھ

Garammizaj
 

بات ہوتی گلوں کی تو سہہ لیتے ہم
اب تو کانٹوں پہ حق بھی ہمارا نہیں

Garammizaj
 

covid-19
بوسہ نہ دے گلے نہ لگا ہاتھ مت ملا
اے یارِ خوش جمال مگر سامنے تو آ
دوچار گز کے فاصلے سے مسکراکے دیکھ
دوچار گز کے فاصلے تک آ کے لوٹ جا
یا گھر میں بیٹھ اور مجھے تصویر بھیج دے
فصلِ وبا میں وصل کا انداز ہے جدا
ملنے کے اشتیاق کو فردا پہ ٹال دے
امروز حالِ دل مجھے واٹس ایپ پر سنا
گزریں وبا کے دن تو بغلگیر ہوویں گے
ارمان ضبط کر اے مرے یار تھم ذرا

Garammizaj
 

جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو
یہ حرم نہیں ہے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہے

Garammizaj
 

عجیب مرض ہے جس کی دوا ہے تنہائی
بقائے شہر ہے اب شہر کے اجڑنے میں

Garammizaj
 

وہ فسانے جو مرے نام سے منسوب ہوئے
ان فسانوں میں تری بات بھی آ جاتی ہے

Garammizaj
 

وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں
یہ کام کس نے کیا ہے یہ کام کس کا تھا

Garammizaj
 

یاری خو تا کڑہ ما خو نہ کڑہ
اوس یے چہ لنڈہ پرے کوے جڑا رازینہ

Garammizaj
 

تو سجنا رب دے نا ورگہ
تے آندے جاندے سا ورگہ

Garammizaj
 

sweet wali morning

Garammizaj
 

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
وحدت میں تیری حرف دوئی کا نہ آ سکے
آئینہ کیا مجال تجھے منہ دکھا سکے
میں وہ فتادہ ہوں کہ بغیر از فنا مجھے
نقش قدم کی طرح نہ کوئی اٹھا سکے
قاصد نہیں یہ کام ترا اپنی راہ لے
اس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے
غافل خدا کی یاد پہ مت بھول زینہار
اپنے تئیں بھلا دے اگر تو بھلا سکے
یارب یہ کیا طلسم ہے ادراک و فہم یاں
دوڑے ہزار آپ سے باہر نہ جا سکے
گو بحث کر کے بات بٹھائی بھی کیا حصول
دل سے اٹھا غلاف اگر تو اٹھا سکے
اطفائے نار عشق نہ ہو آب اشک سے
یہ آگ وہ نہیں جسے پانی بجھا سکے
مست شراب عشق وہ بے خود ہے جس کو حشر
اے دردؔ چاہے لائے بہ خود پر نہ لا سکے

Garammizaj
 

ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اور
عالم میں تجھ سے لاکھ سہی تو مگر کہاں

Garammizaj
 

گداز دل سے باطن کا تجلی زار ہو جانا
محبت اصل میں ہے روح کا بیدار ہو جانا
نوید عیش سے اے دل ذرا ہشیار ہو جانا
کسی تازہ مصیبت کے لیے تیار ہو جانا
وہ ان کے دل میں شوق خودنمائی کا خیال آنا
وہ ہر شے کا تبسم کے لیے تیار ہو جانا
مزاج حسن کو اب بھی نہ سمجھو تو قیامت ہے
ہمارا اور وفا کے نام سے بے زار ہو جانا
سحر کا اس طرح انگڑائی لینا دل فریبی سے
ادھر شاعر کے محسوسات کا بیدار ہو جانا
توسل سے ترے دل میں بھروں گا قوتیں برقی
ذرا میری طرف بھی اے نگاہ یار ہو جانا
وہ آرائش میں سب قوت کسی کا صرف کر دینا
تحمل میں وہ ہر کوشش مری بے کار ہو جانا
معاذ اللہ اب یہ رنگ ہے دنیا کی محفل کا
خدا کا نام لینا اور ذلیل و خوار ہو جانا
رگوں سے خون سارا زہر بن کر پھوٹ نکلے گا
ذرا اے جوشؔ ضبط شوق سے ہشیار ہو جانا

Garammizaj
 

سوز غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا
جا تجھے کشمکش دہر سے آزاد کیا
وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں تیرا شکوہ
جن کو تیری نگہ لطف نے برباد کیا
دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا
جب چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا
اے میں سو جان سے اس طرز تکلم کے نثار
پھر تو فرمائیے کیا آپ نے ارشاد کیا
اس کا رونا نہیں کیوں تم نے کیا دل برباد
اس کا غم ہے کہ بہت دیر میں برباد کیا
اتنا مانوس ہوں فطرت سے کلی جب چٹکی
جھک کے میں نے یہ کہا مجھ سے کچھ ارشاد کیا
میری ہر سانس ہے اس بات کی شاہد اے موت
میں نے ہر لطف کے موقع پہ تجھے یاد کیا
مجھ کو تو ہوش نہیں تم کو خبر ہو شاید
لوگ کہتے ہیں کہ تم نے مجھے برباد کیا
کچھ نہیں اس کے سوا جوشؔ حریفوں کا کلام
وصل نے شاد کیا ہجر نے ناشاد کیا

Garammizaj
 

اس بات کی نہیں ہے کوئی انتہا نہ پوچھ
اے مدعائے خلق مرا مدعا نہ پوچھ
کیا کہہ کے پھول بنتی ہیں کلیاں گلاب کی
یہ راز مجھ سے بلبل شیریں نوا نہ پوچھ
جتنے گدا نواز تھے کب کے گزر چکے
اب کیوں بچھائے بیٹھے ہیں ہم بوریا نہ پوچھ
پیش نظر ہے پست و بلند رہ جنوں
ہم بے خودوں سے قصۂ ارض و سما نہ پوچھ
سنبل سے واسطہ نہ چمن سے مناسبت
اس زلف مشکبار کا حال اے صبا نہ پوچھ
صد محفل نشاط ہے اک شعر دلنشیں
اس بربط سخن میں ہے کس کی صدا نہ پوچھ
کر رحم میرے جیب و گریباں پہ ہم نفس
چلتی ہے کوئے یار میں کیونکر ہوا نہ پوچھ
رہتا نہیں ہے دہر میں جب کوئی آسرا
اس وقت آدمی پہ گزرتی ہے کیا نہ پوچھ
ہر سانس میں ہے چشمۂ حیوان و سلسبیل
پھر بھی میں تشنہ کام ہوں یہ ماجرا نہ پوچھ
بندہ ترے وجود کا منکر نہیں مگر
دنیا نے کیا دیئے ہیں سبق اے خدا نہ پوچھ

Garammizaj
 

تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں
یہ کام کس نے کیا ہے یہ کام کس کا تھا
وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے
تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا
رہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا
مقیم کون ہوا ہے مقام کس کا تھا
نہ پوچھ گچھ تھی کسی کی وہاں نہ آؤ بھگت
تمہاری بزم میں کل اہتمام کس کا تھا
تمام بزم جسے سن کے رہ گئی مشتاق
کہو وہ تذکرۂ ناتمام کس کا تھا
ہمارے خط کے تو پرزے کئے پڑھا بھی نہیں
سنا جو تو نے بہ دل وہ پیام کس کا تھا
اٹھائی کیوں نہ قیامت عدو کے کوچے میں
لحاظ آپ کو وقت خرام کس کا تھا

Garammizaj
 

آپ کا اعتبار کون کرے
روز کا انتظار کون کرے
ذکر مہر و وفا تو ہم کرتے
پر تمہیں شرمسار کون کرے
ہو جو اس چشم مست سے بے خود
پھر اسے ہوشیار کون کرے
تم تو ہو جان اک زمانے کی
جان تم پر نثار کون کرے
آفت روزگار جب تم ہو
شکوۂ روزگار کون کرے
اپنی تسبیح رہنے دے زاہد
دانہ دانہ شمار کون کرے
ہجر میں زہر کھا کے مر جاؤں
موت کا انتظار کون کرے
آنکھ ہے ترک زلف ہے صیاد
دیکھیں دل کا شکار کون کرے
وعدہ کرتے نہیں یہ کہتے ہیں
تجھ کو امیدوار کون کرے
داغؔ کی شکل دیکھ کر بولے
ایسی صورت کو پیار کون کرے