تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
main wo dunya hoon jahan teri kami hai saaaenyaa
meri ankhon main judai ki nami hai saaaaenyaa
اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا ہی نہیں
اب کس امید پہ دروازے سے جھانکے کوئی
اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا ہی نہیں
اب کس امید پہ دروازے سے جھانکے کوئی
کلہ پٹہ شی کلہ خکارا
کلہ اکڑی اشارا
نہ پوہیگی دا وڑہ پہ ما خلق خبروی
آپ تو بے وفا اور ستمگر نہیں
آپ نے کس لیئے منہ ادرھر کر لیا
کچھ شوق سی یار فقیری دا
کچھ عشق نے در در رول دتا
چلو پتھروں سے ہی اب دل لگائیں
وہ پھولوں کے باسی ہیں آئیں نہ آئیں
wara wara she loya ma she
ta la wara ye pa yar waya salamoona
میں وہ چاند
جس کا
تیرے بن
نا کوئی آسرا
جو میں سربسجدہ ہوا کبھی ، تو زمیں سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں
نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں
تو بچا بچا کہ نہ رکھ اسے ، ترا آئینہ ہے وہ آئینہ
جو شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں
کبھی اے حقیقت منتظر ، نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں
دل کے معاملات سے انجان تو نہ تھا
اسی گھر کا فرد تھا مہمان تو نہ تھا
تو ملا ہے تو یہ احساس ہوا ہے مجھ کو
یہ مری عمر محبت کے لیئے تھوڑی ہے
تم مری آنکھ کے تیور نہ بھلا پاؤ گے
ان کہی بات کو سمجھوگے تو یاد آؤں گا
ہم نے خوشیوں کی طرح دکھ بھی اکٹھے دیکھے
صفحۂ زیست کو پلٹو گے تو یاد آؤں گا
اس جدائی میں تم اندر سے بکھر جاؤ گے
کسی معذور کو دیکھو گے تو یاد آؤں گا
اسی انداز میں ہوتے تھے مخاطب مجھ سے
خط کسی اور کو لکھو گے تو یاد آؤں گا
میری خوشبو تمہیں کھولے گی گلابوں کی طرح
تم اگر خود سے نہ بولو گے تو یاد آؤں گا
آج تو محفل یاراں پہ ہو مغرور بہت
جب کبھی ٹوٹ کے بکھرو گے تو یاد آؤں گا
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو
میں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کر دو
نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے
اس قدر ٹوٹ کے چاہو مجھے پاگل کر دو
تم ہتھیلی کو مرے پیار کی مہندی سے رنگو
اپنی آنکھوں میں مرے نام کا کاجل کر دو
اس کے سائے میں مرے خواب دہک اٹھیں گے
میرے چہرے پہ چمکتا ہوا آنچل کر دو
دھوپ ہی دھوپ ہوں میں ٹوٹ کے برسو مجھ پر
اس قدر برسو مری روح میں جل تھل کر دو
جیسے صحراؤں میں ہر شام ہوا چلتی ہے
اس طرح مجھ میں چلو اور مجھے جل تھل کر دو
تم چھپا لو مرا دل اوٹ میں اپنے دل کی
اور مجھے میری نگاہوں سے بھی اوجھل کر دو
Na da Gul Na da sparlo de,
Yo Arman de da Moodo de.
Na da zan na da Janan shum.
Zama jwand da Lewano de.
Sa e Owayam da strgo,
Yo manzar de da kato de.
Khudaya zra me cha la warkm,
Har sok wai che pa so de.
Jwand da cha pa intizar ke,
Goot da zahro yo da sko de.
Zankadn sta da Imdad sho,
Rasha Rasha pa salgo de
Kala gull kala khazan kala bahar sham..
Kala za da yar pa stargo k khumar sham..
Kala kala me da zaana zargay tor she..
Kala kala da ashna da ghaary haar sham.
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain