محبت رنگ دے جاتی ہے جب دل دل سے ملتا ہے مگر مشکل یہ ہے کہ یہ دل بڑی مشکل سے ملتا ہے جِسے دیکھو وہ دیوانہ جس سے پوچھو وہ دیوانہ جِسے کہتے ہیں دیوانا وہ بڑی مشکل سے ملتا ہے صوفی محمد نقیب اللہ شاہ
جب ہم کسی سے ملتے ہیں تو نہ تو ہمارے گلے میں ڈگریاں لٹکی ہوتی ہیں نہ ہمارے ماتھے پہ ہمارے خاندان کا نام کندہ ہوتا ہے یہ صرف ہمارے کردار اخلاق اور اچھے برتاؤ کی خوشبو ہوتی ہے جو دوسروں کو آپ کا گرویدہ بنا دیتی ہے ایسے لوگ ہر زمانے کے ہیرو اور نایاب انسان ہوتے ہیں__اصل میں ہم نے چھوٹی چھوٹی مہربانیاں کرنا چھوڑ دی ہیں ہم نہیں جانتے کہ ہماری ایک مسکراہٹ, ایک درگزر, ہمدردی کا ایک کلمہ ,مہربانی کا ایک عمل چھوٹا نہیں ہوتا یہ عمل ایک کمزور اور محروم انسان کے دل میں ہمارا وہ عکس قائم کرتا ہے جو مدتوں نہیں بھلایا جاتا یہ عکس کبھی ایک انسان تک نہیں رکتا بلکہ روشنی بن کر دوسروں میں منتقل ہوتا رہتا ہے
تم نے کبھی انتظار سے بھری آنکھیں دیکھی ہیں__؟نہیں دیکھیں__؟ میں نے دیکھی ہیں تمہیں پتہ ہے انتظار کا دکھ__؟ شریانوں میں گھل کر سارے جسم کو جب نیلا کر دیتا ہے تو بدن کے مرنے سے پہلے ہی آنکھیں مر جاتی ہیں مگر تمہیں پتا ہے انتظار سے بھری آنکھیں مر کر بھی مرتی نہیں ہیں بس دھند اور بادلوں کے سنگ ہو لیتی ہیں تم یہ سب دیکھ نہیں سکتے دیکھنا تو دور کی بات محسوس بھی نہیں کر سکتے انتظار تنہائی خوف اور اداسی جیسے لفظ تمہارے دل و دماغ میں سرے سے موجود ہی نہیں کیا تم پھر بھی انتظار کی بات کرتے ہو__!!
تصورِ یار میں مجھ کو زمانہ بھول گیا جب سے دیکھا ہے انکی آنکھوں کو مجھے درِ میخانہ بھول گیا کہنا تو بہت کچھ تھا اس اجنبی سے لیکن آۓ جب وہ گیسو سنوار کے میں مدعا ہی بھول گئی تھے اور بہت لوگ عزیز تر مجھے لیکن جب سے وابستگی اس مہرباں سے ہوئی سب تعلقات بھول گئی گر پوچھنا ہے مجھ سے تو پوچھو انکی باتیں زندگی میں انکے سوا جو کچھ پایا کھویا سب بھول گئی کرتی ہوں شام و سحر انکے سخن بیان صباء سے نہیں آیا انکا کوئی پیغام شائد وہ مجھ کو ہی بھول گۓ
میں نے سارا کاجل دریا برد کر کے آنکھوں کو سفید رنگ اوڑھایا ہے___ میں نے چنری سے رنگ نکال کر اپنے پھیکے ہاتھوں سے___ برگد کی شاخوں پر تمھارے نام کے باندھے پیلے دھاگے___بجھے دل سے سہی پر کھولے ہیں میں نے آزاد کیے جانے والے پنچھی مہنگے داموں لے کر پنجروں میں چھوڑے ہیں میں نے آخر شب میں دل کو مار کر سوکھی آنکھوں اور گیلے پوروں سے "منت کے جلتے دیے" بجھاۓ ہیں___!! زویا ممتاز