کبھی کبھی وہ لوگ بھی اپنی زندگی سے آپکو دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیتے ہیں جن کے بقول انہیں آپ کے بغیر سانس نہیں آتی اور آپ ساری زندگی انکی ان باتوں کے صدمے سے باہر نہیں نکل پاتے۔
پتا ہے ایک دن جب میں بیمار ہوا تو اُس نے مجھے کال کی تو کہتی پلیز ڈاکٹر کے پاس جائیں چیک اپ کروا لیں، اگر آپ کو کچھ ہوا تو میرا کیا ہو گا میں مر جاؤں گی اس وقت مجھے لگا تھا کے وہ مجھ سے بے حد محبت کرتی ہے، مجھے کبھی چھوڑ کر نہیں جائے گی، اس وقت اس کا تڑپنا میرے لیے، میرے لیے ہمدردی دیکھانا جیسے کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو سچ میں مر جائے گی اور آج جب میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے، میں پل پل مر رہا ہوں آنکھیں رو رو کے لال ہو گئی ہیں تو اُس کو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا آخر لوگ کیسے اپنی عادتیں ڈال کر بدل جاتے ہیں !۔