بہار آئی تو جیسے یک بار لوٹ ائے ہیں پھر عدم سے وہ خواب سارے شباب سارے جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے جومٹ کہ ہر بار پھر جئے تھے نکھر گئے ہیں گلاب سارے جو تیری خوشبو سے مشکبو ہیں جو تیرے عشاق کا لہو ہیں ابل پڑے ہیں عذاب سارے ملال احوالِ دوستاں بھی (فیض احمد فیض)🤩
حکیم عبد المجید کے ہاں جو شربت کے معروف و مقبول برانڈ *"روح افزا"* کے بانی تھے - خرفہ کے بیج، انگور، سنترے، تربوز، پودینہ، گاجر، تھوڑے پالک، خش خش، کنول، دو قسم کے سوسن کے پھولوں اور دمشقی گلاب کے عرق سے بنا روح افزا بطور ٹانک استعمال ہوتا تھا - لیکن لوگوں نے دیکھا کہ چمکیلے یا قوتی رنگ کے اِس شربت کے دو چمچ اگر ٹھنڈے دودھ میں یا صرف سادہ پانی میں گھول دیئے جائیں تو صرف خوش ذائقہ ہوتا ہے بلکہ دہلی کی جھلسا نے والی گرمی اور ریتیلی ہواؤں میں اُڑنے والے عجیب و غریب بخارات کا بھی اچھا توڑ ہے - جو مشروب بطور دوا شروع کیا گیا تھا، جلد ہی اِس علاقے میں گرمیوں کا مقبول ترین شربت بن گیا - روح افزا ایک کامیاب صنعت اور ہر گھر میں معروف ہوگیا - چالیس برس تک اُس نے بازا پر حکمرانی کی مشروب مشرق روح افزا😊
فراقِ یار کی بارش، ملال کا موسم ہمارے شہر میں اترا کمال کا موسم وہ اک دعا میری، جو نامراد لوٹ آئی زباں سے روٹھ گیا پھر سوال کا موسم بہت دنوں سے میرے نیم وا دریچوں میں ٹھہر گیا ہے تمہارے خیال کا موسم جو بے یقیں ہو بہاریں اجڑ بھی سکتی ہیں تو آ کے دیکھ لے میرے زوال کا موسم محبتیں بھی تیری دھوپ چھاؤں جیسی ہیں کبھی یہ ہجر، کبھی یہ وصال کا موسم کوئ ملا ہی نہیں جس کو سونپتے محسنؔ ہم اپنے خواب کی خوشبو، خیال کا موسم محسن نقوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 😍