ہائروگلیفکس ڈیموٹک (مصری عام رسم الخط) یونانی زبان چونکہ یونانی زبان معلوم تھی، اس سے باقی زبان کو سمجھنے میں مدد ملی 1822 میں فرانسیسی ماہر ژاں فرانسوا شمپولیون نے پہلی بار ہائروگلیفکس کو صحیح طور پر پڑھ لیا۔ ان میں شامل ہوتا تھا: مرنے والے فرعون کے لیے دعائیں بعد از موت زندگی (Afterlife) کی ہدایات دیوتاؤں سے حفاظت کی دعائیں روح کے آسمان تک پہنچنے کے منتر ۔کیونکہ انکا عقیدہ تھا کہ روح کبھی نہیں مرتی
🏺 Egyptian Hieroglyphs پیرامڈز کی دیواروں کے اندر جو لکھائی ملی ہے اسے مصری ہائروگلیفکس (Hieroglyphs) کہا جاتا ہے۔ یہ: قدیم مصر کی تصویری زبان تھی تقریباً 2600 قبل مسیح سے استعمال ہو رہی تھی تصویروں، علامتوں اور نشانات پر مشتمل تھی مثلاً: پرندہ = آواز یا لفظ آنکھ = حفاظت یا دیکھنا سورج = خدا یا روشنی 🔎 اس زبان کی تحقیق کیسے ہوئی؟ صدیوں تک کوئی بھی اس زبان کو پڑھ نہیں سکتا تھا۔ پھر ایک بڑی دریافت ہوئی: 📜 روزیٹا اسٹون (Rosetta Stone) Rosetta Stone 1799 میں مصر میں ایک پتھر ملا جس پر ایک ہی تحریر تین زبانوں میں لکھی تھی: ہائروگلیفکس ڈیموٹک (مصری عام رسم الخط) یونانی زبان
خوفو کا ہرم 481 فٹ بلند تھا اور اسے لنکن ٹاور‘ لندن کی تعمیر سے پہلے 3800 سال تک یہ شرف حاصل رہا ہے کہ یہ روئے زمین پر انسان کی بنائی ہوئی بلند ترین تعمیر تھی۔اتنی اونچائی تک اتنے وزنی پتھر کیسے لے جائے گئے ؟ ان پتھروں کو اتنی خوبی سے تراش کرجوڑا گیا ہے کہ دو پتھروں کے درمیان کاغذ بھی داخل نہیں کیا جاسکتا۔بے وسائل انسانی ہاتھوں نے یہ ہنر کس طرح حاصل کیا؟ پتھروں کا جوڑنے والا مسالا پتھر سے بھی زیادہ سخت اور مضبوط ہے اور آج تک پتھروں کو جوڑے ہوئے ہے۔اس مصالحے کے اجزا کا موجودہ دور میں تجزیہ کیا جاچکا ہے لیکن اسے بنایا نہیں جاسکا۔
🔮 دلچسپ معلومات 🔮*_ _*🏜️ مصر وہ سرزمین ہے*_ جہاں مٹّی کے نیچے بھی اسرار ہیں اور زمین کے اوپر بھی۔نیل کی اس زرّیں اور زرد زمین نے دنیا کو حیران کر رکھا ہے۔ خوفو (2509-2483 قبل مسیح)کا ہرم سب سے بڑا اور خفرے اور منکرے کے اہرام نسبتاً چھوٹے ہیں۔خوفو کے ہرم میں 23 لاکھ سے زیادہ پتھر کے بلاک لگے ہیں جن میں ہر ایک کا وزن دوٹن سے30 ٹن کے درمیان ہے۔اور کچھ بلاک 50 ٹن وزنی ہیں۔ لق و دق ریتیلے صحرا میں جہاں کوئی پہاڑ نہیں اتنے پتھر کہاں سے آئے؟ایک غیر تسلی بخش قیاس موجود ہے جس کے مطابق یہ پتھرقریبی علاقوں اور یوگنڈا وغیرہ کے پہاڑوں سے تراشے گئے اور دریائے نیل کے بہاؤ پر غزا لائے گئے۔ سوال یہ ہے کہ مصریوں کی لوہے کی دریافت سے پہلے اور پہیے کی ایجاد سے قبل محض تانبے کی چھینیوں اور ہتھوڑیوں سے کیا یہ کام ممکن تھا؟ خوفو کا ہرم 481 فٹ بلند تھا
تحقیقات کے مطابق روزہ رکھنے سے: دماغ میں بی ڈی این ایف (BDNF) نامی پروٹین کی مقدار بڑھتی ہے، جو دماغی خلیات کو مضبوط بناتا ہے۔ یادداشت اور فوکس میں بہتری آ سکتی ہے۔ ذہنی دباؤ کم ہونے میں مدد ملتی ہے۔ گویا دماغ جیسے نئی توانائی حاصل کرتا ہے، ایک طرح کی “ری وائرنگ” محسوس ہوتی ہے۔ روحانی پہلو — قرآن کیا کہتا ہے؟ یہ سب وہ حقائق ہیں جنہیں میڈیکل سائنس اب آہستہ آہستہ تسلیم کر رہی ہے۔ مگر ہمارے رب نے تو چودہ سو سال پہلے فرما دیا تھا: "وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ" (اگر تم سمجھو تو روزہ رکھنا تمہارے حق میں بہتر ہے) — Quran، سورۃ البقرہ 2:184,,💫
پھول چڑھائے گئے تو مجھے ایک مرتبہ پھر عذرا پاؤنڈ کا وہ نوحہ یاد آگیا جو اختر حسین جعفری نے لکھا تھا۔۔۔ تجھے ہم کس پُھول کا کفن دیں تو جُدا ایسے موسموں میں ہوا جب درختوں کے ہاتھ خالی تھے املتاس کا ایک زرد بھنورا پُھول بھی نہ تھا۔۔۔ ======================= مستنصر حسین تارڑ💫
بانو آپا کا جنازہ اس لئے اتنا بڑا تھا کہ لوگوں نے اُنہیں ہمدردی کا ووٹ ڈالا تھا۔۔۔جو کچھ اُن پر گزری اور اُنہوں نے اُف تک نہ کی، برداشت کیا تو لوگ اُن کے صبر کو سلام کرنے آئے تھے۔ وہ اشفاق احمد کی بیوی کے جنازے پر نہیں۔۔۔بانو قدسیہ کے جنازے پر آئے تھے۔۔۔اگر اُنہیں اس ہجوم کا کچھ اندازہ ہوتا تو وہ وصیت کر جاتیں کہ لوگو مت آنا۔۔۔ میرے جنازے پر کم آنا۔۔۔میرے محبوب کی نسبت میرے جنازے پر کم آنا۔۔۔ پر لوگ کہاں سنتے ہیں، وہ آئے اور بے حساب آئے۔ اور اس کے باوجود بانو آپا نے تُرپ کا آخری پتّا اپنی موت کے بعد یُوں پھینکا۔۔۔ کہ اشفاق صاحب کے قدموں میں دفن ہو گئیں اور جب اُن کی قبر پر پھول چڑھائے گئےتو ،۔۔۔۔۔۔
۔۔۔ایک بوڑھی ہیر جس کا رانجھا اُس سے بچھڑ گیا تھا اُس کی اداسی میں گُم اور اُس کے سفید بالوں میں املتاس کا ایک زرد پھول یُوں اٹکا ہوا ہے جیسے وہ اُس کے محبوب کے ہاتھوں کا لکھا ہوا ایک خط ہو اور وہ بے خبر ہے کہ شاید اُس کے رانجھے نے اُسے یہ زرد پریم پتر بھیجا ہے اور تب مجھے محسوس ہوا جیسے اُس املتاس کے زرد پُھول کا رنگ اُن کے بالو میں سرایت کرتا اُنہیں زرد کرتا ہے، اُن کے چہرے پر پھیلتا اُسے سرسوں کا ایک کھیت کرتا نہ ہے اور بانو قدسیہ اُس لمحے ملک چین کی کوئی زرد شہزادی لگ رہی تھی۔۔۔میں نے اس بے مثال زرد تصویر کو اپنے ایک کالم میں نقش کیا۔۔۔چونکہ میں نہ کبھی کسی کو اطلاع کرتا ہوں اور نہ ہی اپنے کالم کی کاپی روانہ کرتا ہوں کہ دیکھئے یہ میں نے آپ کے بارے میں لکھا ہے کہ میں کسی کے لئے نہیں صرف اپنے لئے لکھتا. مستنصر حسین تارڑ #
۔ شاہی حکم: خلیفہ کو یہ نظارہ اتنا پسند آیا کہ انہوں نے حکم دیا کہ ہر رمضان میں محلوں اور دکانوں پر فانوس روشن کیے جائیں۔ حفاظت اور جدت: شروع میں لکڑی کے فریم میں موم بتیاں ہوا سے بجھنے سے بچانے کے لیے رکھی جاتی تھیں، جو بعد میں دھات اور رنگین شیشے کے خوبصورت ڈیزائنوں میں بدل گئیں۔ ثقافتی پہچان: وقت کے ساتھ، یہ بچوں کی رمضان میں گلیوں میں گھومنے اور گانے گانے کی روایت بن گیا، جسے اب مصر کی روح کہا جاتا ہے۔ آج، یہ سادہ چراغ مصر میں رمضان کی آمد اور خوشی کا سب سے اہم نشان ہے، جو جدید دور میں بھی اپنی منفرد شناخت قائم رکھے ہوئے ہے۔💫
ایک سادہ چراغ سے رمضان کے سب سے بڑے ثقافتی آئیکون بننے کی کہانی دسویں صدی (فاطمی دور) سے شروع ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب فاطمی خلیفہ المعز لدین اللہ رمضان کے مہینے میں قاہرہ پہنچے، تو لوگ ان کا استقبال کرنے اور رات کے اندھیرے میں راستہ روشن کرنے کے لیے موم بتیاں اور لکڑی کے فریم والے فانوس لے کر سڑکوں پر نکل آئے۔ فانوس کے رمضان آئیکون بننے کی تفصیلات: تاریخی آغاز: 969 عیسوی (تقریباً 358 ہجری) میں جب خلیفہ المعز قاہرہ میں داخل ہوئے، تو عوام نے خوشی اور روشنی کے طور پر فانوس جلائے۔ شاہی حکم: خلیفہ کو یہ نظارہ اتنا پسند آیا کہ انہوں نے حکم دیا کہ ہر رمضان میں محلوں اور دکانوں پر فانوس روشن کیے جائیں
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تیرا کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ تیرا ہم بھی وہاں موجود تھے ہم نے بھی سب دیکھا کیے ہم چپ رہے کچھ نہ کہا کہ منظور تھا پردہ تیرا ۔.