دھوپ بستر تلک چلی آئی
پھر بھی تکیے پہ ہے نمی باقی
وصل ممکن نہیں تو پھر یہ دِلاسے کیوں ہیں..
یہ تسلیاں کیا ہیں آخر ، یہ تماشے کیوں ہیں.
ہمارے لفظوں کو تهوڑا دهیان سے پڑها کرو
دوست
ہم نے سچ میں اپنی زندگی برباد کی هے
کیا خَبر اُن کو بھی آتا ھو ٫ کبھی میرا خَیال
کِن مَلالوں میں ھُوں , کیسا ھُوں , کہاں رَھتا ھُوں؟
جی تو چاہتا ہے کبھی آگ لگا کر دل کو
پھر کہیں دو ر کھڑے ہو کر تماشا دیکھوں
میں تیری بد دعا سے مر جاؤں
یہ میری آخری خواہش ہے
صبر کرومرنے تک
پھر سب ٹھیک ہو جائے گا
مجھ پر جچے گا میرے بخت کا رنگ ۔۔۔۔
میں اس عید پر سیاہ لباس پہنوں گا
بس ایک چیخ سی ابھرے گی خانۂ دل سے
پھر اس کے بعد مری خامشی سنے گا کوئی
اتنی لاپروائیاں نہ کیا کرو
ہمارے جنازے سے بھی رہ جاؤ گے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain