اتنی لاپروائیاں نہ کیا کرو
ہمارے جنازے سے بھی رہ جاؤ گے
تم کو بس اپنی ذات کا دکھ ہے
پر مجھے کائنات کا دکھ ہے
شمع مجھ کو ترے سلگنے کا
اور تیری حیات کا دکھ ہے
صبح سورج خوشی کا نکلے گا
دکھ یہ بس ایک رات کا دکھ ہے
زندگی کیسے تم گزارو گے
تم کو جو بات بات کا دکھ ہے
غم نہیں ہے جہاں سے ہار گئے
پر مقدر سے مات کا دکھ ہے
عشق اس موڑ پر ہے لے آیا
کہ مجھے التفات کا دکھ ہے
اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا
ایسا نہ ہو کہ رنج رہے پھر تمام عمر
جی بھر کے دیکھ لے کہ دوبارہ نہیں ہوں مَیں
اک دن جو یونہی پردۂ افلاک اٹھایا
برپا تھا تماشا کوئی تنہائی سے آگے
حسرتیں دفن هیں مجھ میں
خود کا خود مزار هوں میں
کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا
بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا
میری جگہ کوئی اور ہو تو چیخ اٹھے
میں اپنے آ پ سے اتنے سوال کرتا ہوں۔
ایک آنسو نے ڈبویا مجھ کو ان کی بزم میں
بوند بھر پانی سے ساری آبرو پانی ہوئی
تو مجھ کو رونے دے یار! شانے پہ ہاتھ مت رکھ
میں گیلے کاغذ کی طرح چُھونے سے پَھٹ رہا ہوں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain