میں تب بھی جُھک کے باندھ دھونگا تمہارے پیروں میں پائلھاں اس عُمر میں بھی، جبکہ میرے گُھٹنوں میں درد ھوگا..
تمہارے شہر کو جاتے یہ لاریوں والے
صدا نہیں لگاتے،مجھ پہ طنز کرتے ہیں
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
!روزاک چیز ٹوٹ جاتی ہے
آ بسے ہیں تیرے دیار سے دور
!رہنے والے تو ہم وہیں کے ہیں
کل پر ہی رکھو وفا کی باتیں
!میں آج بہت بُجھا ہوا ہوں
آتا ہے کون کون تیرے غم کو بانٹنے
زاہدؔ تو اپنی موت کی افواہ اٌڑا کے دیکھ
میری قسمت میں غم گر اِتنا تھا
دِل بھی یارب کئی دئیے ہوتے
اندﮬﮯ ﻧﮯ ﺍپنے ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮧ ﺁنکھیں اگائی ﮨﯿﮟ
چھونے ﮐﯽ ﺩﯾﺮ ﮨﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain