اس کی آنکھیں ہیں یا کوئی دستک
کھلنے لگتا ہے راستہ مجھ میں
شرم سے منہ چھپائے پھرتا ہے
وہ جو رہتا تھا برملا مجھ میں
شمعِ خیمہ کوئی زنجیر نہیں ہم سفراں !
جس کو جانا ھے چلا جاۓ اجازت کیسی ؟
دل اگر دل ھے تو دریا سا بڑا ھونا ھے !
سر اگر سر ھے تو نیزوں سے شکایت کیسی ؟
عرفان صدیقی - - - - -
جب انتظار کے لمحے پگھلنے لگتے ہیں
گلی کے لوگ میرے دل پہ چلنے لگتے ہیں
میں اس لئے بھی پرندوں سے دور بھاگتا ہوں
کہ ان میں رہ کے میرے پر نکلنے لگتے ہیں
(ye os k liy jo khud ko chirhya btati hy😉)
خزان کی رُت میں گلاب لہجہ، بناکے رکھنا کمال یہ ہے
ہوا کی زد پہ دیا جلانا، جلا کے رکھنا کمال یہ ہے
خیال اپنا، مزاج اپنا، پسند اپنی، کمال یہ ہے؟
جو یار چاہے وہ حال اپنا بنا کے رکھنا، کمال یہ ہے
کسی کی راہ سے خدا کی خاطر، اُٹھا کے کانٹے، ہٹا کے پتھر
پھر اس کے آگے نگاہ اپنی جھکا کے رکھنا، کمال یہ ہے
وہ جس کو دیکھے تو دکھ کا لشکر بھی لڑکھڑائے، شکست کھائے
لبوں پہ اپنے مسکراہٹ سجا کے رکھنا، کمال یہ ہے
ہزار طاقت ہو، ہوں سو دلیلیں، پھر بھی لہجے میں عاجزی سے
ادب کی لذت، دُعا کی خوشبو بسا کے رکھنا، کمال یہ ہے
اک بڑا جہان ہو
اس میں لاکھوں لوگ ہوں
ایک ہی پسند ہو
اور وہ بھی "نہ" ملے
خودکشی تو بنتی ہے۔۔۔۔
ملتی نہیں دل کو کسی پہلو بھی تسلی
لمحات حضوری ہیں کہ تڑپائے ہوئے ہیں
اِس وقت نہ چھیٹر اے کششِ لذتِ دنیا
اِس وقت مِرے دل کو وہ یاد آئے ہوئے ہیں
پیر نصیر الدین نصیر
میں خود ہی اپنی نگاہوں کہ داد دیتا ہوں
ہزار چہروں میں اک انتخاب یعنی تو
گداز جسم کمل ہونٹ مرمری باہیں
مری تباہی پہ لکھی کتاب یعنی تُو
JIGAR G
مُرشد کبھی جو خوف نے گھیرا سمٹ گئے
ہم ایسے بے حواس تھے خود سے لپٹ گئے
مُرشد ہمارا شہر بھی جنت نظیر تھا
پھر یوں ہوا کہ لوگ مسالک میں بٹ گئے
احسن اعجاز خان
تُو غزل اوڑھ کے نکلے یا دھنک اوٹ چُھپے
لوگ جس روپ میں دیکھیں تجھے پہچانتے ہیں
یار تو یار ہیں اغیار بهی اب محفل میں
میں تیرا ذکر نہ چھیڑوں تو بُرا مانتے ہیں
کتنے لہجوں کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کو
شہر والے میرا موضوعِ سُخن جانتے ہیں
ڈرتی ہوئی وہ آئی مرے لگ گئی گلے
کوچے میں بھونکتے ہوئے کتے کی خیر ہو
لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سے
تیری آنکھوں نے تو کچھ اور کہا ہے مجھ سے
ہائے اس وقت کو کوسوں کہ دعا دوں یارو
جس نے ہر درد مرا چھین لیا ہے مجھ سے
دل کا یہ حال کہ دھڑکے ہی چلا جاتا ہے
ایسا لگتا ہے کوئی جرم ہوا ہے مجھ سے
کھو گیا آج کہاں رزق کا دینے والا
کوئی روٹی جو کھڑا مانگ رہا ہے مجھ سے
اب مرے قتل کی تدبیر تو کرنی ہوگی
کون سا راز ہے تیرا جو چھپا ہے مجھ سے
میں کہتا رہ گیا ویسا نہیں ہوں
سمجھتا ہے مجھ جیسا، نہیں ہوں
مری تو گفتگو ہی روح سے ہے
میں تیرے جسم کا پیاسا نہیں ہوں
نہ مانی دل نے جلاتا رہا
نہیں ہوں یار میں ایسا نہیں ہوں
اسے اک بار پھر بتلا دے کوئی
وصی میں لوٹ کر آتا نہیں ہوں
چہرے کا نصف حصہ زیر نقاب کر کے
کرتے ہیں حسن والے دیدار میں ملاوٹ
خبر نہیں ہے کہاں کب کسی کو لگ جائے
تمہارے ہجر کی دیمک ہنسی کو لگ جائے
یہ بددعا کی طرح عشق بھی مصیبت ہے
جو اس سے جان چھڑائے اسی کو لگ جائے
کومل جوئیہ
دُکھ دے کر سَوال کرتے ہو
تم بھی غالب ! کَمال کرتے ہو
دیکھ کر پوچھ لیا حال میرا
چلو کچھ تو خیال کرتے ہو
شہر دل میں اداسیاں کیسی
یہ بھی مجھ سے سوال کرتے ہو؟
مرنا چاہے تو مر نہیں سکتے
تم بھی جینا محال کرتے ہو
اب کس کس کی مثال دوں تم کو!
ہر ستم بےمثال کرتے ہو 💕
غالب۔۔۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain