کیسے اس شخص سے تعبیر پہ اصرار کریں جو ہمیں خواب دکھانا بھی نہیں چاہتا ہے . اپنے کس کام میں لائے گا بتاتا بھی نہیں . ہم کو اوروں پہ گنوانا بھی نہیں چاہتا ہے . میرے لفظوں میں بھی چھپتا نہیں پیکر اس کا . دل مگر نام بتانا بھی نہیں چاہتا ہے .
بدن کا بوجھ لئے ،، روح کا عذاب لئے. . . کدھر کو جاؤں ، طبیعت کا اضطراب لئے . . . کسی کے شہر میں ، مانند برگ آوارہ ۔۔۔ !. . . پھرے ہیں کوچہ بہ کوچہ ہم اپنے خواب لئے