سوال یہ نہیں کہ وہ پکار کیوں نہیں رہا !
سوال ہے کہ اُس کو اعتبار کیوں نہیں رہا ؟
یہ کون ارد گرد نفرتوں کے جال بُن گیا ؟
ہمارے آس پاس تیرا پیار کیوں نہیں رہا ؟
کسے بتاؤں انتظارِ موت بھی نہیں مجھے !
کسے بتاؤں زندگی گزار کیوں نہیں رہا ؟
وہ سب کے سب گِلے کہو کہاں پہ بھول آئے ہو ؟
تمہاری آنکھ میں وہ انتظار کیوں نہیں رہا ؟
خیال، اک خیال، وہ جو بس ترا خیال تھا !
نہ جانے اب وہ ذہن پر سوار کیوں نہیں رہا !
چمک ہے مال و زَر کی ! جیسے گَرد ہے جمی ہوئی !
یہاں کسی بھی سوچ پر نکھار کیوں نہیں رہا ؟
اک اُس کا ہاتھ ہے جو ہر بگاڑ کا علاج ہے !
بگڑ چکا ہوں میں ! وہ اب سنوار کیوں نہیں رہا ؟
ہماری سانس تھم چکی ہے ! یاد اُسے دلائیے
لٹک رہے ہیں ! دار سے اتار کیوں نہیں رہا ؟
gooood by Damadam.pk all dears duawo mai yaad rakna awoga likan pata nahe zandaghi rahe k nahe koi pata nahe chalta miss you all dears 😢😢