"لڑکا کبھی لڑکی کا دوست نہیں ہو سکتا کیونکہ اس میں جذبہ ہے، خواہش ہے۔" (شیکسپیئر) آئرش شاعر آسکر وائلڈ نے بھی یہی کہا تھا۔۔۔! "مرد اور عورت کے درمیان صرف دوستی کا ہونا ناممکن ہے۔ خواہش، کمزوری، نفرت یا محبت جو ہو سکتی ہے۔" "ایک لڑکا اور لڑکی دوست ہو سکتے ہیں، لیکن وہ محبت میں ضرور پڑ جائیں گے۔ شاید بہت کم وقت کے لیے یا غلط وقت پر، یا بہت دیر سے، یا شاید ہمیشہ کے لیے لیکن وہ محبت میں پڑ جائیں گے۔" (ہمایوں احمد) سچ پوچھیں تو لڑکے اور لڑکی کے درمیان محض دوستی ناممکن اور خلاف فطرت ہے کیونکہ اگر صرف دوستی ہو گی تو فطرت اپنا وجود کھو دے گی۔ مقناطیس اور لوہا کبھی ایک ساتھ نہیں ہو سکتے۔ یہ اپنی طرف متوجہ کرے گا۔ اگر کوئی اس سے گریز کرتا ہے تو وہ یا تو منافق ہے یا دھوکہ دے رہا ہے خود کو یاں کسی اور کو۔۔۔!
ہزار باتوں پہ ہم اکثر یونہی خاموش ہیں رہتے لوگ کہتے ہیں مغرور اور کبھی پاگل ہیں کہتے یوں تو سنتے ہیں ہر روز بہت اچھے الفاظ بھی مگر ہم لفظوں سے زیادہ لہجے ہیں سمجھتے بات کرتے ہیں سیدھی اور زہر کی مانند ہم باتوں باتوں میں بات نہیں بدلتے خیال رکھتے ہیں رشتوں کے تقد س کا مگر نا قدری کرنے والوں کو ہم دوبارہ نہیں ملتے یہ لوگ جو بن بیٹھے ہیں خدا، سُن لیں ہم رب کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے
د حورو د مستۍ غېږه تاوان دے غني خانه سړے دے او ایمان ئې لا ګمان دے غنی خانه ستا سر باندې دا ستا د خداے لاس دے زهٔ ئې وینم دا ستا لاس کښې د کوم خداے ګرېوان دے غني خانه! د زړهٔ زور او د سر غرور ئې خداے مهٔ کړه چې مات شي دا پښتون وطن سم غني خان دے غني خانه!