Congratulations,1 year and 10 months ho gy aor maire abhi tk damadam py kisi sy bhi dosti ya jaan pehchan nahi hui. 🎉
شادی شدہ لوگوں کو شادی مبارک اور میری طرح اکیلے سنگل لوگوں کو ہفتہ 30 اگست دوہزار پچیس مبارک
ایک دوست ملا اور بولا کیا حال ہے؟
میں نے کہا،اپنی بیگم کو بھیج میرے پاس اسے بتا دوں گا اپنا حال،آگے سے دوست بولا،اچھا ٹھیک ہے،میں گھر اپنی بیگم کو کال کر دیتا ہوں،پھر چلے جانا اس سے ملنے اور جو کرنا ہوا کر لینا۔
ایسے بھی دوست ہوتے ہیں دنیا میں جو اپنے دوستوں کا اتنا خیال رکھتے ہیں اور کسی دوست کی کسی بات کا برا نہیں مناتے ہیں۔
امید کی کرن
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا، إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا" (الشرح: 5-6)
"بیشک تنگی کے ساتھ آسانی ہے، ہاں تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔"
اگر آج ہم قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھام لیں، فرقہ واریت کو چھوڑ دیں، اور "لا الٰہ الا اللہ" کو عملی طور پر نافذ کر لیں، تو پاکستان پھر سے روشنی کا مینار بن سکتا ہے۔
مزید فرمایا:
"إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ" (الانعام: 159)
"جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا اور گروہ گروہ ہو گئے، اے نبی ﷺ! آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔"
پاکستان کا اصل مقصد
یہاں سود سے پاک معیشت ہونی تھی۔
عدل و انصاف ہر شخص کو ملنا تھا۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق نظامِ حکومت قائم ہونا تھا۔
فرقہ واریت کے بجائے اتحادِ امت ہونا تھا۔
لیکن افسوس! پاکستان میں ایسا نہ ہو سکا۔
پاکستان: لا الٰہ الا اللہ سے فرقہ واریت تک
ایک فکری و اصلاحی جائزہ
✍️ حکیمُ الامت علامہ ڈاکٹر محمد اویس خان ترین
مقدمہ
پاکستان ایک نعمت ہے جو لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کے بعد "لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ" کے نام پر حاصل کیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ یہاں ایک ایسا معاشرہ قائم ہو جہاں قرآن و سنت کے مطابق عدل، مساوات اور اخوت ہو۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ ملک فرقہ واریت، سیاست، لالچ اور کرپشن کی نذر ہو گیا۔
قرآن کی ہدایت اور امت کی تقسیم
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح فرمایا:
"وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا" (آل عمران: 103)
"سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں مت پڑو۔"
نتیجہ
امت کو فرقہ واریت کے خول سے نکل کر قرآن و سنت کی اصل تعلیمات کی طرف آنا ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ:
ایک دوسرے کو کافر کہنے سے بچیں۔
اللہ سے مدد مانگیں۔
نبی ﷺ اور اہل بیت سے محبت کریں۔
اور سب سے بڑھ کر، امت کو جوڑنے والے بنیں، توڑنے والے نہیں۔
انبیاء و اولیاء وسیلہ اور دعا کا ذریعہ بن سکتے ہیں، لیکن وہ اللہ کے شریک نہیں۔
5. کفر کے فتوے لگانے کی ممانعت
نبی ﷺ نے فرمایا:
"اگر کوئی اپنے بھائی کو کافر کہے تو ان دونوں میں سے ایک پر وہ کفر لوٹ آتا ہے۔" (صحیح بخاری)
لہٰذا محض ایک لفظ یا اندازِ محبت پر کفر کا فتویٰ دینا سخت گناہ اور امت کو توڑنے کا ذریعہ ہے۔
6. اسلام کا پیغام
الحمدللہ کہنا: ایمان کی علامت
یا رسول اللہ کہنا: محبت کا اظہار
یا علی کہنا: اہلِ بیت سے عقیدت
لیکن اصل عبادت اور حقیقی استعانت صرف اللہ سے۔
2. یا رسول اللہ کہنا بریلوی؟
نبی ﷺ کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کی جان، مال اور اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔" (صحیح بخاری)
محبت کے طور پر "یا رسول اللہ" کہنا ایک اظہارِ ادب ہے، لیکن حقیقی مدد اور دعا ہمیشہ اللہ ہی سے مانگی جاتی ہے:
"إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ" (الفاتحہ: 5)
3. یا علی کہنا شیعہ؟
حضرت علیؓ چوتھے خلیفہ راشد، جری صحابی اور جنتی ہیں۔ ان کا ذکر محبت اور ادب کے ساتھ کرنا ایمان کی علامت ہے۔
لیکن اگر کوئی "یا علی مدد" کو عقیدے کے طور پر مستقل طاقت مانے، تو یہ شرعی طور پر غلط ہے۔
4. اصل عقیدہ
اسلام کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ:
عبادت صرف اللہ کی ہے۔
دعا، حاجت روائی اور حقیقی مدد صرف اللہ سے مانگی جاتی ہے۔
فرقہ واریت یا اسلام؟
ایک فکری و اصلاحی جائزہ
از قلم: حکیمُ الامت علامہ ڈاکٹر محمد اویس خان ترین
مقدمہ
الحمدللہ! آج امتِ مسلمہ کے سامنے سب سے بڑی آزمائش فرقہ واریت ہے۔ معمولی الفاظ یا اندازِ محبت کو بنیاد بنا کر مسلمان ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگاتے ہیں۔ حالانکہ اسلام نے سب سے پہلے وحدت اور بھائی چارے کا درس دیا ہے۔
1. الحمدللہ کہنے والے کو وہابی؟
"الْـحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ" (الفاتحہ: 2)
یہ کلمۂ حمد و شکر براہِ راست قرآن سے ہے۔ کوئی بھی مسلمان اگر "الحمدللہ" کہتا ہے تو وہ صرف قرآن کے حکم پر عمل کر رہا ہے، اسے فرقہ واریت کے ساتھ جوڑنا ظلم ہے۔
الحمدلله کہنے والوں کو تو یہاں وہابی کہتے ہیں
یارسول اللہ مدد کہنے والوں کو بریلوی
یاعلی مدد کہنے والوں کو شیعہ
اور جو یہ سب ایک ساتھ بولے اسے کافر
پہلے پاکستان صرف مسلمانوں کا ملک ہوتا تھا
بعد میں بہت سے فرقے بن گئے اور آہستہ آہستہ یہ ملک پاکستان مختلف فرقوں میں بٹ گیا،قرآن جس بات سے منع کرتا ہے کہ تفرقہ میں مت پڑو مگر افسوس پاکستان کو ایسے مولوی ملے اور آگے سے بچے جنہوں نے وہ وہ فرقے بنا لیے جنکا اسلام مذہب سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔
جیسی کرنی ویسی بھرنی
اب یہ ملک پکا کافروں کا ملک ہے مسلمان تو یہاں صرف نام کے رہ گئے ہیں۔
چندہ مانگنے والا مولوی اپنی ہی مسجد میں جب دو بچوں کو دیکھتا ہے کہ کپڑا اٹھائے دو بچے چندہ مانگ رہے ہیں تو اس سے رہا نہیں گیا اور فورا بولا،یہ کیا کر رہے ہو؟
مجھ سے بھی نہیں رہا گیا میں بھی بول پڑا،بچے بڑوں کو دیکھ کر ہی سیکھتے ہیں،جیسا آپ کرتے ہو ویسے ہی بچوں نے بھی کیا،اس میں پوچھنے اور حیرانگی والی کیا بات ہے؟
😂
دنیاوی تقریباً سارے رشتے ہی پیسوں کے ہوتے ہیں کوئی محبت کا نہیں ہوتا ہے۔
محبت تو پاگل لوگ کرتے ہیں،باقی سمجھدار لوگ وقت گزارتے ہیں۔
بیٹی خوددار آدمی کو کوئی نہیں دیتا بھکاری کو پھر بیٹی مل جاتی ہے،کیوں کہ اکثر لوگوں کی یہ ہی سوچ ہے بھکاری تو پھر بھی بھیک مانگ کر اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال لے گا مگر خوددار آدمی پہ کبھی برا وقت آگیا تو اس نے بھیک بھی نہیں مانگنی ہے،بعد میں فضول میں بیوی بچے بھوکے مریں گے۔
مولوی کو کوئی کیوں اپنی بیٹی نہ دے؟
تمہیں پتہ ہے مولوی کے ایک جمعے میں کتنے پیسے اکٹھے ہوتے ہیں؟
تمہاری سوچ سے بھی ذیادہ
😂
kashmiri chahty to kashmir azad ho sakta tha mgr wo to pakistan maien a kr rehny lagy apna kashmir chor kr.
Bheek mangny wali qoomy khuddari ky meaning nahi smhjty hain.
واپڈا والوں آپکا کوئی حال نہیں
کسی بھی وقت بتی چلی جاتی ہے۔
سنا ہے تم آج بھی اپنی پرانی چپلیں نئی چپلوں کیساتھ مسجد میں بدل لیتے ہو؟
😂
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain