سودی قرضوں کی وجہ سے نہ صرف معیشت تباہ ہوتی ہے بلکہ اللہ کی مدد بھی رُک جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قومیں سود پر کھڑی نہیں رہ سکتیں بلکہ بدنامی اور ذلت اُن کا مقدر بن جاتی ہے۔
⚖️ 3. حکمرانوں کی اصل ذمہ داری
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ
"تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔"
(صحیح بخاری و مسلم)
یعنی حکمرانوں کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے عوام کی جان، مال، کھیتیاں اور بستیاں بچائیں۔ اگر وہ پالیسیاں ایسی بنائیں جن سے ہر سال سیلاب آئے اور عوام کا نقصان ہو تو وہ اللہ کے ہاں سخت جواب دہ ہیں۔
🌊 1. سیلاب اور آفات: حکومتی نااہلی اور اللہ کا عذاب
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:
> وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍۢ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُوا عَن كَثِيرٍ
"تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے، وہ تمہارے اپنے ہی ہاتھوں کے کئے کا نتیجہ ہے، اور وہ بہت سی کو معاف بھی کر دیتا ہے۔"
(سورہ الشوریٰ 42:30)
یعنی جب حکمران اور عوام اپنی ذمہ داریاں چھوڑ دیتے ہیں، عدل قائم نہیں ہوتا، سود اور ظلم عام ہو جاتا ہے تو پھر معاشروں پر طرح طرح کی آزمائشیں اور قدرتی آفات آتی ہیں۔
💰 2. سودی قرضے اور بدنامی
قرآن کریم میں سود کے بارے میں سب سے سخت الفاظ استعمال ہوئے:
> فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ
"اگر تم سود سے باز نہ آئے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ سن لو۔"
(سورہ البقرہ 2:27
7) مآخذ (حوالہ جات برائے مطالعہ)
قرآنِ مجید (آیات: سورۃ النساء 4:157–158، سورۃ آلِ عمران 3:55)
صحیح البخاری، صحیح مسلم (روایاتِ نزولِ عیسیٰ)
انجیلِ متی، مرقس، لوقا، یوحنا (اہم ابواب برائے مصلوبیت و قیامت)
زبور (مزمور 22)، اشعیا 53
کلاسیکی تفاسیر: ابنِ کثیر، القرطبی، الطبری (تفسیری نکات)
آخری کلمات
یہ دستاویز ایک تحقیقی خلاصہ ہے تاکہ آپ کو ایک جگہ پر قرآن، احادیث اور آسمانی کتابوں کی روشنی میں مکمل منظرنامہ مل سکے۔
6) نتیجہ اور خلاصہ
1. قرآنِ مجید: مصرححاً بتاتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو قتل یا صلیب پر چڑھایا جانا واقع نہیں ہوا؛ ان کے لیے مشابہ بنا دیا گیا اور اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھایا۔
2. احادیثِ نبویہ: بتاتی ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور قیامت سے پہلے دوبارہ زمین پر آئیں گے؛ وہ عدل قائم کریں گے اور صلیب کی علامت کو مٹائیں گے۔
3. عہدِ جدید (انجیل): چاروں اناجیل میں یسوعؑ کی گرفتاری، مقدمہ، پولیس/رومی سزا، سولی پر چڑھانا، مرنا، دفن اور تیسرے روزِ زندہ ہو جانے کی تفصیلی روایات موجود ہیں — یہی مسیحی ایمان کا مرکزی حصہ ہے۔
4. زبور/اشعیا: مسیحی مفسرین انہیں یسوع کی پیشگوئیاں مانتے ہیں؛ مگر یہود و مسلم اسکالر ان کا مختلف طور پر ادراک کرتے ہیں اور متنی اختلافات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
قرآنی و اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق: جو دعویٰ کیا گیا وہ جھوٹا تھا؛ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا لیا اور جو منظر دکھا وہ اصل حقیقت نہیں تھی۔ اس لحاظ سے "قتل کرنے والے" والوں کا دعویٰ جھوٹ پر مبنی تھا۔
متنی مسائل و کرونولوجی
اناجیل کے بیانات میں روایتی ہم آہنگی موجود ہونے کے باوجود تاریخی تحقیق (مثلاً متنی اختلافات، رومی/یہودی عدالتی آداب، تاریخِ پیلاطس کا پس منظر) پر مختلف اسکالرز نے بحث کی ہے۔
قدیم نسخوں، زبور کے ترجموں، اور عبرانی متن کے اختلافات نے مسیحی پیشگوئی کے دعووں کو بعض محققین کی نظر میں کمزور کر دیا ہے، جبکہ مسیحی اسکالرز عام طور پر اناجیل کو تاریخی گواہی قرار دیتے ہیں۔
یہودی اور مسلم تشریحات
یہودی اسکالر عموماً ان آیات کو کسی مخصوص تاریخی شخصیت (مثلاً قومِ اسرائیل یا کسی نبی/مخلص خدمت گزار) کے بارے میں سمجھتے ہیں نہ کہ مصلوب مسیح کے متعلق۔
مسلم اسکالرز بھی ماضی کے تناظرات اور متن کے اختلافات کی وجہ سے ان آیات کو قطعی ثبوت کے طور پر قبول نہیں کرتے بلکہ مختلف تشریحات پیش کرتے ہیں۔
5) تاریخی و فقہی تشریحات اور اختلافات
کون ذمہ دار قرار پایا؟
بائبل کے مطابق: مذہبی یہودی سردار (chief priests/elders) نے رومیہ میں پیلاطس کے سامنے عیسیٰؑ کے خلاف شکایت کی؛ سیاسی و ڈپلومیٹک حالات کے باعث رومی حکمران نے سزا جاری کی۔ نتیجہ: رومیہ + مقامی مذہبی رہنما (جمعی ذمہ داری)۔
بائبل کا روایتی قرائت
بائبلی روایت کے مطابق یہودی مذہبی سردار (chief priests, elders, scribes) نے مقدمہ چلایا، پیلاطس کے سامنے الزام رکھا، اور رومیوں نے مجبوری/سیاسی دباؤ کی بنیاد پر یسوع کو سزا دی۔
4) تورات و زبور — مسیحی مفسرین کی جانب سے پیشگوئی کا موقف اور متنی مباحث
اشعیا 53 اور زبور 22
اشعیا 53: مسیحيانِ مسیحی اسے "suffering servant" کے طور پر یسوع کی قربانی کی پیشگوئی مانتے ہیں۔
زبور 22: بعض ترجموں میں "They pierced my hands and my feet" جیسا بیان ملتا ہے جسے مسیحی یسوع کی مصلوبیت سے ملاتے ہیں۔ تاہم قدیم عبرانی اور یونانی (Septuagint) متون اور تراجم میں اختلافات پائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ آیات مکمل طور پر متنازعہ مفہوم رکھتی ہیں۔
3) عہدِ جدید (انجیل) — گرفتاری، مقدمہ، سزا، سولی اور قیامت
یہاں چاروں اناجیل (متی، مرقس، لوقا، یوحنا) سے وہ اقتباسات درج کیے گئے ہیں جو مسیحیت میں مصلوبیت (Crucifixion) اور قیامت (Resurrection) کے ثبوت کے طور پر دیے جاتے ہیں۔
چند متعلقہ آیات (خلاصہ)
متی 27:22–26 — پیلاطس کے سامنے ہجوم نے چیخ کر کہا: "اسے سولی پر چڑھاؤ" اور پیلاطس نے برابّا کو رہا کیا۔
مرقس 15:13–15 — ہجوم کی مانگ پر پیلاطس نے یسوع کو کوڑے لگوا کر سولی کے لئے سپرد کر دیا۔
لوقا 23:33 — "وہ جگہ جو کھوپڑی کہلاتی ہے" (Golgotha) پر اسے سولی دے دیا گیا۔
یوحنا 19:16–18 — یسوع صلیب اٹھا کر گیا اور وہاں اسے سولی پر چڑھایا گیا۔
اہم نکات
متعدد صحیح احادیث میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ بنِ مریم عنقریب زمین پر واپس آئیں گے، دجال کا قلع قمع کریں گے، عدل و انصاف قائم کریں گے، صلیب اور شرک کی علامات مٹائیں گے، اور آخرالزمان میں مسلم امّت کے ساتھ حکم چلائیں گے۔
چند مشہور حوالہ جات (خلاصہ)
صحیح بخاری: حضور ﷺ نے اعلان فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے اور زمین پر عدل قائم کریں گے؛ انہوں نے مخصوص الفاظ میں بتایا کہ وہ صلیب کو توڑیں گے اور شراب کو ختم کریں گے۔
صحیح مسلم: مفصل روایتِ نزول جس میں نازل ہونے کی جگہ، پوشاک اور عمل کا بیان آتا ہے—اور ان کے بعد مسلم امّت کا دورِ عدل بیان کیا جاتا ہے۔
> (نوٹ: احادیث کے اصل عربی متن اور سندیں اس مضمون کے مآخذ والے حصّے میں دی گئی ہیں تاکہ مطالعہ ممکن ہو)
> إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا ۖ
اردو مفہوم: میں تجھے (اپنی طرف) وصول کر لوں گا اور تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تجھے ان لوگوں سے پاک کر دوں گا جو کفر اختیار کر چکے ہیں۔
(ب) قرآن کی تشریحی سمجھیات
قرآنِ مجید میں صراحت کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا قتل یا صلیب پر چڑھانا واقع نہیں ہوا بلکہ ان کے لئے کچھ ایسا دکھایا گیا یا کسی اور کو اُن کی مانند ظاہر کیا گیا۔
کلاسیکی مفسرین (ابنِ کثیر، القرطبی وغیرہ) اس آیت کی روایات و قرائن کی روشنی میں بیان کرتے ہیں کہ اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو دنیا سے اپنے پاس اٹھایا (رفع) اور جو منظرِ عام پر آیا وہ اصل واقعہ نہیں تھا۔
2) احادیثِ نبویہ — عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی اور ان کی علامات
4. تورات و زبور — مسیحی تفسیرات اور یہودی/مسلم جوابات
5. تاریخی و فقہی تشریحات اور اختلافات
6. نتیجہ اور خلاصہ
7. مآخذ (درجِ حوالہ جات)
1) قرآنِ مجید کا بیان
(الف) بنیادی آیات
سورۃ النساء (4:157–158)
> وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ ۖ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا
اردو ترجمہ (مبسط): اور ان کے کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ابنِ مریم، اللہ کے رسول کو قتل کر ڈالا — حالانکہ نہ انہوں نے اسے مارا اور نہ اسے صلیب پر چڑھایا؛ بلکہ ان کے لیے اس کا مشابہ بنا دیا گیا۔
سورۃ آلِ عمران (3:55)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سولی: قرآنِ مجید، احادیثِ نبویہ اور آسمانی کتابوں (تورات، زبور، انجیل) کا تفصیلی تقابلی مطالعہ
مصنف: حکیمُ الامت علامہ ڈاکٹر محمد اویس خان ترین
تعارفی نوٹ
یہ تحقیقی مضمون اس سوال کا مفصل جواب پیش کرتا ہے کہ حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام کو کون لوگوں کی وجہ سے سولی پر چڑھایا گیا اور اس واقعہ کا قرآن، احادیثِ نبویہ اور آسمانی کتابوں (تورات، زبور، انجیل) میں کیا حوالہ ہے۔ اس میں متنِ عربی/عربی آیات کے اردو تراجم، احادیث کے خلاصے، اور بائبل کے متعلقہ اقتباسات شامل ہیں۔
فہرستِ مضامین
1. قرآنِ مجید کا بیان
2. احادیثِ نبویہ میں عیسیٰ علیہ السلام کا بیان اور ان کی واپسی
3. عہدِ جدید (انجیل) — گرفتاری، مقدمہ، سولی، موت اور قیامت کے تفصیلی اقتباسات
🌸 جمعہ مبارک 🌸
الحمدُ للهِ الذي هدانا لِهذا وَما كُنّا لِنَهتَدِيَ لَولا أن هَدانَا اللهُ۔
✨ قرآن سے رہنمائی:
> يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ
(الجمعة: 9)
"اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔"
✨ حدیثِ مبارکہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> "جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکہف پڑھی، اس کے لیے ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک نور روشن ہو جائے گا۔"
(الحاکم، صحیح)
✨ مسنون دعا (جمعہ اور عام دنوں کے لیے):
اللَّهُمَّ اجعلنا مِن أهلِ الهُدى والتُّقى والعفافِ والغِنى، واغفِر لنا ولوالدينا ولجميعِ المسلمينَ الأحياءِ منهم والأموات.
3. ٹیکنالوجی اور وسائل
چین کے پاس سیٹلائٹ، راکٹ، اور فضائیہ کی مدد سے cloud seeding کے جدید ترین وسائل ہیں۔
2008 بیجنگ اولمپکس کے دوران چین نے بارش کنٹرول کرنے کے تجربے کیے تھے تاکہ ایونٹس متاثر نہ ہوں۔
⚠️ لیکن اہم نکتہ
چین پاکستان کا قریبی اتحادی ہے (CPEC، دفاعی معاہدے، اقتصادی تعلقات)، اس لیے عملاً یہ ممکن نہیں لگتا کہ وہ پاکستان پر جان بوجھ کر ایسا ہتھیار استعمال کرے۔
زیادہ امکان یہ ہے کہ چین اپنے علاقے میں موسم کو کنٹرول کرے اور اس کے "spillover effects" پاکستان تک آ جائیں (یعنی غیر ارادی اثرات)۔
بھارت → جان بوجھ کر دشمنی کی بنیاد پر شبہ زیادہ ہے۔
چین → ٹیکنالوجی زیادہ ہے، لیکن پاکستان کے ساتھ تعلقات دوستانہ ہیں، اس لیے اگر اثر ہوا تو وہ زیادہ تر "غیر ارادی" ہوگا۔
اگر بھارت کو چھوڑ کر دیکھا جائے تو چین بھی ایک ممکنہ کھلاڑی ہو سکتا ہے کیونکہ:
✅ وجوہات جو چین کو ممکنہ بناتی ہیں
1. بڑا موسم کنٹرول پروگرام
چین کے پاس دنیا کا سب سے بڑا Weather Modification Program ہے۔
صرف Beijing Weather Modification Office ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں "cloud seeding" کے لیے ہزاروں راکٹ اور ہوائی جہاز استعمال کیے جاتے ہیں۔
چین نے دعویٰ کیا کہ وہ "Rainfall Enhancement" اور "Snowfall Induction" میں کئی لاکھ مربع کلومیٹر تک اثر ڈال سکتا ہے۔
2. پاکستان کی قربت اور اثر
چین کا جغرافیائی اثر پاکستان کے شمال سے ملتا ہے، اور برفانی گلیشیئرز والے علاقے بھی دونوں ممالک کے درمیان ہیں۔
اگر چین بڑے پیمانے پر cloud seeding کرے تو اس کے اثرات "cross-border" پاکستان میں بھی محسوس ہو سکتے ہیں۔
بین الاقوامی قوانین ایسے käyttö-/حملے کی ممانعت کرتے ہیں۔
پاکستان کے قریب سب سے زیادہ شبہ بھارت پر کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس نے Cloud Seeding اور موسمیاتی تبدیلی کے تجربات کیے ہیں، مگر بڑے پیمانے پر "جیو ویپن حملے" کے شواہد دستیاب نہیں ہیں اس لیے ہمیں سائنسی تحقیق + بین الاقوامی دباؤ + داخلی اصلاحات تینوں سمتوں میں کام کرنا ہوگا۔
اس لیے بڑے پیمانے پر "جیو-وارفیئر" کا ثبوت نہیں ملتا۔
بین الاقوامی قانون اور اخلاق
ENMOD (Environmental Modification Convention, 1977) کے تحت ماحولیاتی/موسمیاتی طریقوں کو فوجی یا دشمنی کے مقصد کے لیے استعمال کرنا ممنوع ہے۔ اس معاہدے کا حوالہ بین الاقوامی سطح پر اس طرح کے استعمال کو غیر قانونی قرار دیتا ہے۔
نتیجہ (خلاصہ)
سب سے قریبی اور سب سے ممکنہ 'خلافِ مفاد' ریاست' بطورِِ تکنیکی طور پر بھارت کو سمجھا جا سکتا ہے—لیکن:
کسی ایک ملک پر ٹھوس الزام لگانے کے لیے واضح شواہد درکار ہوتے ہیں (معلومات، ٹیکنیکل ڈیٹا، سیٹلائٹ/موسمی ریکارڈ، خفیہ دستاویزات وغیرہ)؛
جو ٹیکنیکس عام طور پر دستیاب ہیں وہ محدود اثر کی حامل ہیں (cloud-seeding وغیرہ)، بڑے سیلاب جیسے واقعات کا سبب بننا ثابت کرنا مشکل ہے؛
امریکہ/HAARP — HAARP جیسی تحقیقی تنصیبات کے حوالے سے بہت سی دعویں ہوتی ہیں، مگر سائنسدان اور NOAA جیسے ادارے واضح کرتے ہیں کہ ایسے پروجیکٹس سے طوفان یا بڑے موسمی نظام کو کنٹرول کرنا عملی طور پر ناممکن ہے۔
تکنیکی حقیقت (کیا ممکن ہے؟)
Cloud-seeding (چاندی آیوڈائیڈ یا دیگر ایجنٹس کے ذریعے): یہ اکثر موجودہ بادلوں میں بارش بڑھا سکتا ہے، مگر اس کے لیے پہلے ہی مناسب موسمی حالات درکار ہوتے ہیں؛ یہ عام طور پر محدود، مختصر مدتی اور مقامی اثرات دیتے ہیں، نہ کہ پورے دریائی حوضے یا پورے صوبے کو سیلاب زدہ کرنے والے بڑے طوفان۔
بڑے بحالی یا طوفانی سسٹم تبدیل کرنا: سائنسدان اور ماحولیاتی ادارے کہتے ہیں کہ طوفانوں/سیلابوں کو صنعتی یا ایک ملک کی عام تنصیبات سے منظم طور پر پیدا/ہتھانا اس وقت عملی طور پر ناقابلِ عمل ہے۔
2. قابلیت (capability) — بھارت میں کلاؤڈ سیڈنگ، مصنوعی بارش کے تجربات اور متعلقہ تحقیقی پروجیکٹس مسلسل رپورٹ ہوتے رہے ہیں (جامعات/ادارے جیسے IITs اور ریاستی کوششیں)۔ یہ بنیادی طور پر زراعت یا آلودگی کم کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، نہ کہ واضح طور پر فوجی استعمال کے طور پر۔
دوسری طاقتیں — چین، امریکہ، روس وغیرہ
چین کے پاس ایک بہت بڑا سرکاری موسم ترمیم پروگرام ہے (Beijing Weather Modification Office اور ملک گیر عملیاتی نظام) — یہ رسمی طور پر بارش بڑھانے، آتش زدگی/خشک سالی پر قابو پانے وغیرہ کے لیے ہے۔ چین کی تکنیکی صلاحیت وسیع ہے، مگر چین عموماً خطے میں جارحانہ موسمیاتی ہتھیار کے الزام سے مختلف طور پر کام کرتا۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain