اس کے ہاتھوں میں جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھر بچپن سے ہی اسکا نشانہ تیز ہے جب کبھی اس پار جانے کا خیال اتامجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کہ دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھر جانے کی نیت سے ہمیں اج بھی وہ دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ اے ہو نہ میرے پاس میں تمہیں کہتا بھی رہتا تھا کہ دنیا تیز ہے آج اس کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چاے اچھی ہے مگر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے تہذیب حافی