ایک زمانہ تھا جب موبائیل گرتا تھا تو بیٹری باہر آجاتی تھی
اب موبائیل گرتا ہے تو دل باہر آجاتا ہے
جون میں دعا مانگی تھی اب جا کے قبول ہوئی
ٹنکی سے اب ٹھنڈا پانی آتا ہے
ﺷﻮﮨﺮ ﺗﻢ ﻧﮯ مجھ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺎ
ﮐﮧ ﺗﻢ ﻓﻮﺭﺍً ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ؟
ﺑﯿﻮﯼ ﺟﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﺎﻟﮑﻨﯽ ﺳﮯ ﺑﺮﺗﻦ ﺩﮬﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ
شوہر محبت کا سمندر ہوتا ہے بیوی چاہتی ہے کہ وہ اکیلی ہی اس سمندر میں شارک بن کر گھومتی پھرے
جبکہ شوہر چاہتا ہے کہ اس سمندر میں بہت ساری مچھلیاں ہوں
ھاھاھاھاھاھا
وہ مزہ نہیں دنیا کے کسی کونے میں
جو مزہ ہے صبح اٹھ کر پھر سے سونے میں
جتنا مرضی بندہ پڑھا لکھا لو
کانچ کے دروازے پر آکر وہ رک ہی جائے گا
اور سوچے گا کہ دروازہ اندر کھولنا ہے یا باہر
آج کل تین سال کے بچے موبائل فون استعمال کرتے ہیں
جبکہ ہم پانچ سال تک مٹی کھاتے تھے
آپ کو یقین نہیی ہو گا پھر بھی میں بتا رہی ہوں
بچپن میں میں بہت چھوٹی تھی
😏
سنگل ہونے کا سب سے بڑا فائدہ
پوری رضائی اپنی ہوتی ہے
😎😋
عورتوں کو خوش کرنا بڑا مشکل کام ہے
مردوں کا کیا ہے؟؟؟
وہ تو عورتيں دیکھ کر ہی خوش ہو جاتے ہیں
😹😹
اس کی باتیں تکلیف نہیی دیتی۔۔۔
جتنی تکلیف سلو انٹرنیٹ دیتا ہے ۔۔
ایک لڑکی اپنے محبوب سے پوچھنے لگی کے جب تم کو میری یاد آتی ہے تو تم کیا کرتے ہو
لڑکا بولا
میں تمہاری پسندیدہ چاکلیٹ کھا لیتا ہوں
لڑکا اور تم کیا کرتی ہو
لڑکی
میں گولڈ لیف کے دو سگریٹ پی لیتی ہوں
لوگ دل میں جگہ بناتے ہیں
میں اپنے والے کے دل میں سرنگ بناؤں گی
ویسے لعنت بھی کیا کمال چیز ہے
ایڈریس نا بھی لکھو تو مستحق افراد تک پہنچ ہی جاتی ہے
✋
شادی والے دن دولہا وہ شخص ہوتا ہے
جو اپنے اردگرد خوبصورت لڑکیاں دیکھ دیکھ کر پریشان ہو رہا ہوتا ہے
کہ
آج سے پہلے یہ سب کہاں تھیں؟
😅
بابا جی فرماتے ہیں ۔
ایمبولنس ہو یابارات دونوں کو جلدی راستہ دے دینا چاہۓ
کیونکہ دونوں ہی زندگی کی جنگ لڑنے جا رہے ہیں
آج میں نے اپنا دوپٹہ بھر پور فلمی انداز میں لہرایا
یقین جانئے نہ کسی شہزادے کے منہ پر جا گرا
اور نہ ہی کسی کی گھڑی میں پھنسا
الٹا ایک کونے سے پھٹ گیا
😬
حاجی صاحب بیوٹی پارلر کے ویٹنگ روم میں بیٹھےمیگزین پڑھ رہے تھے کہ ایک خوبصورت عورت آئی، آہستہ سےان کا کندھا دبایا اور بولی آئیے چلتے ہیں!
حاجی صاحب پسینہ پسینہ ہو گئےہڑبڑا کر بولےمَیں شادی شدہ ہوں اور یہاں پارلر میں میری بیوی بھی ساتھ ہے
خاتون نے کہاارےغورسے دیکھو، یہ میں ھوں!
سعد :یار انسان کی جہاں عزت نا ہو وہاں سے اس کو چلے جانا چاہیے
اکرم :کیسی باتیں کرتے ہو یار اب میں اپنے گھر بھی نا جاؤں
ٹیچر :
بھینس دُم کیوں ہلاتی ہے؟
پٹھان :
سائنس کے اصول کےمطابق
دُم میں یہ طاقت نہیں ہوتی کہ وہ بھینس کوہلا سکے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain