sadqay diya karo
kahin muhabbat peechay na parh jaye
A muhabbat Teri qismat k tujhy muft milay
hum say Dana ju kamalat kiya karty thay
hi devil is back
mirning dmadam
bye dmadam good night
کبھی جب مدتوں کے بعد اس کا سامنا ہوگا
سوائے پاس آداب تکلف اور کیا ہوگا..
یوں تو کہنے کو بہت لوگ شناسا میرے
کہاں لے جاؤں تجھے اے دلِ تنہا میرے
وہی محدود سا حلقہ ہے شناسائی کا
یہی احباب مرے ہیں، یہی اعدا میرے
میں تہِ کاسہ و لب تشنہ رہوں گا کب تک
تیرے ہوتے ہوئے ، اے صاحبِ دریا میرے
مجھ کو اس ابرِ بہاری سے ہے کب کی نسبت
پر مقدر میں وہی پیاس کے صحرا میرے
دیدہ و دل تو ترے ساتھ ہیں اے جانِ فراز
اپنے ہمراہ مگر خواب نہ لے جا میرے
yeh sary toxic log mar kion nahi jaty mery samait
ہم تو خوش تھے کہ چلو دل کا جنوں کچھ کم ہے
اب جو آرام بہت ہے تو سکوں کچھ کم ہے
رنگ گریہ نے دکھائی نہیں اگلی سی بہار
اب کے لگتا ہے کہ آمیزش خوں کچھ کم ہے
اب ترا ہجر مسلسل ہے تو یہ بھید کھلا
غم دل سے غم دنیا کا فسوں کچھ کم ہے
اس نے دکھ سارے زمانے کا مجھے بخش دیا
پھر بھی لالچ کا تقاضا ہے کہوں کچھ کم ہے
راہ دنیا سے نہیں دل کی گزر گاہ سے آ
فاصلہ گرچہ زیادہ ہے پہ یوں کچھ کم ہے
تو نے دیکھا ہی نہیں مجھ کو بھلے وقتوں میں
یہ خرابی کہ میں جس حال میں ہوں کچھ کم ہے
آگ ہی آگ مرے قریۂ تن میں ہے فرازؔ
پھر بھی لگتا ہے ابھی سوز دروں کچھ کم ہے
فیصلہ
چار سُو مہرباں ہے چوراہہ
اجنبی شہر، اجنبی بازار
میری تحویل میں ہیں سمتیں چار
کوئی رستہ کہیں تو جاتا ہے
چار سُو مہرباں ہے چوراہہ
Bye bye DMADAM
نظر بجھی تو کرشمے بھی روز و شب کے گئے
کہ اب تلک نہیں آئے ہیں لوگ جب کے گئے
کرے گا کون تری بے وفائیوں کا گلہ
یہی ہے رسم زمانہ تو ہم بھی اب کے گئے
مگر کسی نے ہمیں ہم سفر نہیں جانا
یہ اور بات کہ ہم ساتھ ساتھ سب کے گئے
اب آئے ہو تو یہاں کیا ہے دیکھنے کے لئے
یہ شہر کب سے ہے ویراں وہ لوگ کب کے گئے
گرفتہ دل تھے مگر حوصلہ نہ ہارا تھا
گرفتہ دل میں مگر حوصلے بھی اب کے گئے
تم اپنی شمع تمنا کو رو رہے ہو فرازؔ
ان آندھیوں میں تو پیارے چراغ سب کے گئے
آخری بار آہ کر لی ہے
میں نے خود سے نباہ کر لی ہے
اپنے سر اک بلا تو لینی تھی
میں نے وہ زُلف اپنے سر لی ہے
دن بھلا کس طرح گزاروگے
وصل کی شب بھی اب گزر لی ہے
جاں نثاروں پہ وار کیا کرنا
میں نے بس ہاتھ میں سِپر لی ہے
جو بھی مانگو اُدھار دوں گا میں
اُس گلی میں دکان کر لی ہے
میرا کشکول کب سے خالی تھا
میں نے اُس میں شراب بھر لی ہے
اور تو کچھ نہیں کیا میں نے
اپنی حالت تباہ کر لی ہے
شیخ آیا تھا محتسب کو لئے
میں نے بھی ان کی وہ خبر لی ہے
عشق سمجھے تھے جس کو وہ شاید
تھا بس اک نارسائی کا رشتہ
میرے اور اُس کے درمیاں نکلا
عمر بھر کی جدائی کا رشتہ
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain