لیکن ہمیں شکست ہوئی ہے یہ ہم بھی جانتے ہیں ہم آج سو نہ سکیں گے، یہ تم بھی جانتے ہو مگر یہ بات کہ یہ شام آخری تو نہ تھی یہ بات ہم ہی نہیں دوسرے بھی مانتے ہیں
بند باہر سے مری ذات کا دَر ہے مجھ میں میں نہیں خود میں، یہ اِک عام خبر ہے مجھ میں اک عجب آمد و شُد ہے کہ نہ ماضی ہے نہ حال جونؔ، برپا کئی نسلوں کا سفر ہے مجھ میں ہے مری عمر جو حیران تماشائی ہے اور اک لمحہ ہے جو زیر و زبر ہے مجھ میں کیا ترستا ہوں کہ باہر کے کسی کام آئے وہ اک انبوہ کہ بس خاک بسر ہے مجھ میں ڈوبنے والوں کے دریا مجھے پایاب ملے اس میں اب ڈوب رہا ہوں جو بھنور ہے مجھ میں در و دیوار تو باہر کے ہیں ڈھینے والے چاہے رہتا نہیں میں، پر مرا گھر ہے مجھ میں میں جو پیکار میں اندر کی ہوں بے تیغ و زِرہ آخرش کون ہے جو سینہ سِپر ہے مجھ میں معرکہ گرم ہے بے طور سا کوئی ہر دم نہ کوئی تیغ سلامت، نہ سپر ہے مجھ میں زخم ہا زخم ہوں اور کوئی نہیں خوں کا نشاں کون ہے وہ جو مرے خون میں تر ہے مجھ میں
اس کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے جیسے کوئی در دل پر ہو ستادہ کب سے ایک سایہ نہ دروں ہے نہ بروں ہے یوں ہے تم نے دیکھی ہی نہیں دشت وفا کی تصویر نوک ہر خار پہ اک قطرۂ خوں ہے یوں ہے تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے عشق کا نام خرد ہے نہ جنوں ہے یوں ہے اب تم آئے ہو مری جان تماشا کرنے اب تو دریا میں تلاطم نہ سکوں ہے یوں ہے ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے یوں ہے شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فرازؔ یہ بھی اک سلسلۂ کن فیکوں ہے یوں ہے
لَوحِ آمد میں آگیا ہوں، خدا کا بھیدی، تمہاری بستی میں آگیا ہے میں آدمی اور خدا کے بیچ اک بچولیا ہوں کہا گیا ہے، نہ ہونے والے کو ہونے والوں کے دکھ نہ سونپو نہ ہونے والوں کو ہونے والوں سے شرم آتی ہے کہا گیا ہے کہ مَیں جو اب تک کہیں نہیں ہوں اگر ہوا بھی تو میں کسی کا خدا نہ ہوں گا
اب شوق سے کہ جاں سے گزر جانا چاہیئے بول اے ہوائے شہر کدھر جانا چاہیئے کب تک اسی کو آخری منزل کہیں گے ہم کوئے مراد سے بھی ادھر جانا چاہیئے وہ وقت آ گیا ہے کہ ساحل کو چھوڑ کر گہرے سمندروں میں اتر جانا چاہیئے اب رفتگاں کی بات نہیں کارواں کی ہے جس سمت بھی ہو گرد سفر جانا چاہیئے کچھ تو ثبوت خون تمنا کہیں ملے ہے دل تہی تو آنکھ کو بھر جانا چاہیئے یا اپنی خواہشوں کو مقدس نہ جانتے یا خواہشوں کے ساتھ ہی مر جانا چاہیئے
رمز تم جب آؤ گی ، تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ھے مجھ پر ان میں اک رمز ھے جس رمز کا مارا ہوا ذہن مژدہ عشرتِ انجام نہیں پا سکتا زندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا