Damadam.pk
Mahi.mote's posts | Damadam

Mahi.mote's posts:

Sad poetry
M  : Sad poetry - 
My Godness
M  : My Godness - 
Mahi.mote
 

لیکن
ہمیں شکست ہوئی ہے یہ ہم بھی جانتے ہیں
ہم آج سو نہ سکیں گے، یہ تم بھی جانتے ہو
مگر یہ بات کہ یہ شام آخری تو نہ تھی
یہ بات ہم ہی نہیں دوسرے بھی مانتے ہیں

Allah ki mehbani
M  : Allah ki mehbani - 
Mahi.mote
 

بند باہر سے مری ذات کا دَر ہے مجھ میں
میں نہیں خود میں، یہ اِک عام خبر ہے مجھ میں
اک عجب آمد و شُد ہے کہ نہ ماضی ہے نہ حال
جونؔ، برپا کئی نسلوں کا سفر ہے مجھ میں
ہے مری عمر جو حیران تماشائی ہے
اور اک لمحہ ہے جو زیر و زبر ہے مجھ میں
کیا ترستا ہوں کہ باہر کے کسی کام آئے
وہ اک انبوہ کہ بس خاک بسر ہے مجھ میں
ڈوبنے والوں کے دریا مجھے پایاب ملے
اس میں اب ڈوب رہا ہوں جو بھنور ہے مجھ میں
در و دیوار تو باہر کے ہیں ڈھینے والے
چاہے رہتا نہیں میں، پر مرا گھر ہے مجھ میں
میں جو پیکار میں اندر کی ہوں بے تیغ و زِرہ
آخرش کون ہے جو سینہ سِپر ہے مجھ میں
معرکہ گرم ہے بے طور سا کوئی ہر دم
نہ کوئی تیغ سلامت، نہ سپر ہے مجھ میں
زخم ہا زخم ہوں اور کوئی نہیں خوں کا نشاں
کون ہے وہ جو مرے خون میں تر ہے مجھ میں

Sad Poetry image
M  : Sad poetry - 
Mahi.mote
 

اس کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے
یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے
جیسے کوئی در دل پر ہو ستادہ کب سے
ایک سایہ نہ دروں ہے نہ بروں ہے یوں ہے
تم نے دیکھی ہی نہیں دشت وفا کی تصویر
نوک ہر خار پہ اک قطرۂ خوں ہے یوں ہے
تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے
عشق کا نام خرد ہے نہ جنوں ہے یوں ہے
اب تم آئے ہو مری جان تماشا کرنے
اب تو دریا میں تلاطم نہ سکوں ہے یوں ہے
ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے
روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے یوں ہے
شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فرازؔ
یہ بھی اک سلسلۂ کن فیکوں ہے یوں ہے

The beauty of islam
M  : The beauty of islam - 
Mahi.mote
 

لَوحِ آمد
میں آگیا ہوں، خدا کا بھیدی، تمہاری بستی میں آگیا ہے
میں آدمی اور خدا کے بیچ اک بچولیا ہوں
کہا گیا ہے، نہ ہونے والے کو ہونے والوں کے دکھ نہ سونپو
نہ ہونے والوں کو ہونے والوں سے شرم آتی ہے
کہا گیا ہے کہ مَیں جو اب تک کہیں نہیں ہوں اگر ہوا بھی
تو میں کسی کا خدا نہ ہوں گا

Mahi.mote
 

اب شوق سے کہ جاں سے گزر جانا چاہیئے
بول اے ہوائے شہر کدھر جانا چاہیئے
کب تک اسی کو آخری منزل کہیں گے ہم
کوئے مراد سے بھی ادھر جانا چاہیئے
وہ وقت آ گیا ہے کہ ساحل کو چھوڑ کر
گہرے سمندروں میں اتر جانا چاہیئے
اب رفتگاں کی بات نہیں کارواں کی ہے
جس سمت بھی ہو گرد سفر جانا چاہیئے
کچھ تو ثبوت خون تمنا کہیں ملے
ہے دل تہی تو آنکھ کو بھر جانا چاہیئے
یا اپنی خواہشوں کو مقدس نہ جانتے
یا خواہشوں کے ساتھ ہی مر جانا چاہیئے

Mahi.mote
 

رمز
تم جب آؤ گی ، تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے
میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ھے مجھ پر
ان میں اک رمز ھے جس رمز کا مارا ہوا ذہن
مژدہ عشرتِ انجام نہیں پا سکتا
زندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا

Mahi.mote
 

خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ
جن کی زندگی میں کوئی غم نہیں ہوتا
پھول کھلے رہتے ہیں اُس کے چاروں طرف
کوئی کانٹا کوئی زخم نہیں ہوتا