دل نہیں وہ چیز جو بازار میں مل جاۓ
دل نہیں وہ پھول جو پھر باغ میں کھل جاۓ
خطأ تو جب ہو کہ ہم حال دل کیسی سے کہے
کیسی کو چاہتے رہنا کوٸ خطأ تو نہیں
سوچتا ہوں کہ وہ کتنے معصوم تھے
کیا سے کیا ہوگٸے دیکھتے دیکھتے
میری تقدیر میں ایک بھی غم نہ ہوتی اگر تقدیر لکھنے کا حق٠٠ میری ماں کو ہوتا
جس نے درد چھپانا سیکھ لیا اس نے جینا سیکھ لیا