"رخصتی"
کسی پودے کو اکھاڑ کر جب ایک جگہ سے دوسری جگہ لگایا جاتا ہے تو دوبارہ سے زندہ ہونا پودے کا کمال نہیں ہوتا بلکہ اس مٹی کا ہوتا ہے جو اسے خود میں سمو لیتی ہے، جڑیں پکڑنے کی راہ دیتی ہے
لڑکی جب بیاہ کے سسرال جاتی ہے تو اسے اس ماحول میں ایڈجسٹ ہونے کے لئے وقت لگتا ہے ، جب تک ایڈجسٹ نہیں ہو جاتی مشکل میں ہی رہتی ہے
زمین جتنی نرم ہو گی وہ اتنی ہی جلد جڑیں گاڑ لے گی، اور اگر زمین ہی پتھریلی ہو تو عمر بیت جائے گی مگر وہ اپنا رنگ و نور کھو کے بھی وہاں نہیں سما سکتی،
اور جڑیں گاڑنے میں بھی عورت کا کوئی ہاتھ نہیں .... بات تو ساری ساتھ کی ہے جب اسکا شوہر اسے اس کی جگہ دے گا تو رشتوں کی ہر جڑ مضبوط ہو گی ۔ ۔ ۔ ۔
اور یہی پودہ ایک دن تناور درخت بن کے نہ صرف اپنوں کو بلکے اپنی مٹی کو بھی مضبوطی سے تھام لے گا۔