رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ظالم کو چند روز دنیا میں مہلت دیتا رہتا ہے لیکن جب پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی وَكَذَ ٰلِكَ أَخۡذُ رَبِّكَ إِذَاۤ أَخَذَ ٱلۡقُرَىٰ وَهِیَ ظَـٰلِمَةٌۚ إِنَّ أَخۡذَهُۥۤ أَلِیمࣱ شَدِیدٌ اور تیرے پروردگار کی پکڑ اسی طرح ہے، جب وہ بستی والوں کو پکڑتا ہے۔ جو (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہتے ہیں، بیشک اس کی پکڑ بڑی تکلیف دینے والی اور بڑی ہی سخت ہے۔“ صحیح بخاری: 4686
سادگی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے پاس کوئی چیز کم ہے، بلکہ یہ ہے کہ آپ کو زیادہ کی نمائش کی ضرورت نہیں۔ جو لوگ اندر سے مطمئن ہوتے ہیں، وہ باہر سے سادہ ہوتے ہیں۔ نہ دکھاوا، نہ بناوٹ — بس اصل زندگی، اصل چہرہ، اصل انسان،،،،،، سادگی وہ خوبی ہے جو وقت کے ساتھ نایاب ہوتی جا رہی ہے، لیکن یہی وہ چیز ہے جو انسان کو سب سے زیادہ خوبصورت اور معتبر بناتی ہے۔"