بخار نے ایسی شدّت اختیار کر لی ہے کہ رگ رگ میں موت اپنے جلوے نکھارنے لگی ہے، جسم شعلوں میں گھل رہا ہے، سانس لرزاں و بکھرا ہوا اور زندگی اپنی تکبر بھری نزاکت سے ابھی بھی مداخلت کر رہی ہے۔
شبنم ہے کہ دھوکا ہے کہ جھرنا ہے کہ تم ہو دل دشت میں ایک پیاس تماشا ہے کہ تم ہو ایک لفظ جو بھٹکا ہوا شاعر ہے کہ میں ہوں ایک غیب سے ایا ہوا مصرع ہے کہ تم ہو دروازہ بھی جیسے میری دھڑکن سے جڑا ہے دستک ہی بتاتی ہے پرایا ہے کہ تم ہو ایک دھوپ سے الجھا ہوا سایہ ہے کہ میں ہوں اک شام کے ہونے کا بھروسہ ہے کہ تم ہو میں ہوں بھی تو لگتا ہے کہ جیسے میں نہیں ہوں تم ہو بھی نہیں اور یہ لگتا ہے کہ تم ہو
قیامت میں ترا داغِ محبت لے کے اٹھوں گا تیری تصویر اُس دم بھی کلیجے سے لگی ہوگی، ربّا تیری خدائی ہائے یاد ہے آئی دل یہ دیتا دہائی، غم سے دے تو رہائی، حال کیسے سناؤں روگ کیسے نبھاؤں ربّا قسمت میں رونا کیوں لکھا، کیسا یہ مرض ہے عشق عشق کیسا یہ درد ہے عشق عشق ميرا دشمن میرا عشق عشق کیویں مار مکاؤاں۔
ہم نے سمندر میں اُترنے سے پہلے ہی🥀 تمہاری کشتیِ میں چھید دیکھ لیے تھے 🔥 مگر پھر بھی میں نے تمہارے ساتھ ....🥀... سفر کا فیصلہ کیا کیوں کے محبتِ.....🤌..👀 معجزے کرتی ہے مگر افسوس کے.....❤️🩹 کشتیِ ڈوب گئی ....🥺..🫠..🥀
تیرے بال، واللہ، غالیہ بیز مشکبو خُماری زُلفیں ہیں، جن کی ہر لٹ میں لطافتِ عنبر، نزاکتِ نگارندگی اور رقّتِ ریشم گھلی ہوئی ہے۔ ان کی خمیدگی میں وہی جمالِ ناز ہے جو کبھی لکھنؤ کی نوابانہ بیگمات کے مُروّجہ خطِ زلف میں دکھائی دیتا تھا— یعنی بل کھاتے ہوئے فتنہ ساماں حلقے اور دل کو اسیر کرنے والی مرمریں سیاہی۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر بال میں تسکینِ جان، طَیفِ یاقوتی سحر اور بےمثال نرماہٹ گُھل کر ایک شہکارِ لطافت شکل اختیار کر گئی ہو۔ تیری زُلفوں کی شبتاب دمک ایسی ہے کہ گویا رات کی مخملی دامان پر کسی نے کوہِ نور کی سیاہ چمک بکھیر دی ہو۔
اُس کی ماہِ نایاب آنکھیں، رازِ کُن فیکون رکھتی ہیں، چاند بھی جھک جائے جن پر، وہ نگاہیں خون رکھتی ہیں۔ ہر نظر میں اک جہانِ حُسن بے آواز بول اُٹھتا، یہ نگاہیں ذکر کرتی ہیں، لبوں پہ سُکون رکھتی ہیں۔ میں نے دیکھی ہیں ہزاروں صبح و شامیں زندگی کی، پر یہ آنکھیں خود میں ساری کائنات کا جنون رکھتی ہیں۔ 😌❤️