میں اپنی بے بسی کو بے حسی کا رنگ دیتا ہوں
میں ان باتوں پہ ہنستا ہوں که جن پہ رو نہیں سکتا۔
وہاں سمجھا ھے جاکر دل نے مفہومِ محبّت کو
سمجھنا اور سمجھانا .......جہاں بیکار ہوجائے
تُمہیں کھونے کا ڈَر کیسا
کہ کھویا اُن کو جاتا ہے
جو حَاصِل ہوں، میَسّر ہوں
تم کیا جانو کامل لوگوں
آدھی ذات کے پورے دکھ کو
تجھ سے زندگی کی بھیک مانگنے سے اچھا ہے
تیرے ہجر کی خودداری میں جیا جائے شان سے🙂
والعصر سے والناس کی تفسیر جہاں ہے
والفجر کے خوں ناک تسلسل کا زماں ہے
والّیلِ اِذا یَسر، صبح ِ غم کے کفن پر
مغرب سے نکلتے ہوئے سورج کا گماں ہے
احزاب کے باغی ہیں مہاراج و مسیحا
میخانہ ء ابلیس، پس ِ پردہ عیاں ہے
انسانَ لفی خُسر ہے آئینہ ء عالم
توحید کی گفتار پہ تکرار ِ بتاں ہے
لاحول ولا قوۃ افرنگ کا منشور
شاہوں کا وظیفہ ہے، یزیدوں کی اذاں ہے
کافر کیلیے جہد ِ مسلماں ہے قیامت
مسند کی مسلمانی فقط سود و زیاں ہے
شکوے پہ مرے فتوی لیے آئے ہیں واعظ
شرمندہ ء اطوار کوئی شیخ کہاں ھے
ہماری سوچ پہ کوئی نہ ہو سکا حاوی
کہ ہم نے صرف تمھارے ہی خواب دیکھے ہیں
خود بخود چھوڑ گئے ہیں تو چلو ٹھیک ہوا ۔
اتنے احباب کہاں ہم سے سنبھالے جاتے؟
ہم بھی غالب کی طرح کوچہ جاناں سے
نہ نکلتے تو کسی روز نکالے جاتے۔💔
محسن نقوی
شام کے وقت چراغوں سی جلائی ہوئی میں
گھپ اندھیروں کی منڈیروں پہ سجائی ہوئی میں
دیکھنے والوں کی نظروں کو لگوں سادہ ورق
تیری تحریر میں ہوں ایسے چھپا ئی ہوئی میں
اسے خبر تھی کہ جانا پڑے گا جاں سے مجھے
تبھی نکال دیا اپنی داستاں سے مجھے
میں پَر نہ ہونے کی تکلیف سے گذرتی ہوں
پکارتا ہے کوئی جب بھی آسماں سے مجھے
کومل جوئیہ
کاسہٕ حِرص کو دٌنیا بِھی نہیں بَھر سکتی
دِل بَسانا ہو تو اِک شَخص بہت ہوتا ہے.
خفا ہوئے تھے یہی سوچ کر منا لے گا
کسے خبر تھی وہ دنیا نئی بسا لے گا
میں کس بھروسے پہ آتا تو آتا محفل میں
یقین جب تھا کہ تو بھی نظر چرا لے گا
نبھانے والوں کے حصے میں بس خسارے ہیں
وہ بے وفا ہے چلو فائدہ اٹھا لے گا
میں اُس گھڑی تجھے شدت سے یاد آؤں گا
جہان سارا تو جس روز آزما لے گا
کوئی کہانی مکمل کبھی نہیں ہوتی
جہاں تو ہو گا مکمل تو کچھ گنوا لے گا
ترا یہ وہم ہے ابرک کہ آفتاب ہے تو
ہر اک دیا ترے کردار کو نبھا لے گا
مجھکو وار دیا گیا مجبوریوں کے نام پر
یوں پھینک دیا جیسے ،اک قرض اتارا ہو........
ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہے
وحشت بڑے دلچسپ دوراہے پہ کھڑی ہے
دل رسم و رہ شوق سے مانوس تو ہو لے
تکمیل تمنا کے لیے عمر پڑی ہے
چاہا بھی اگر ہم نے تری بزم سے اٹھنا
محسوس ہوا پاؤں میں زنجیر پڑی ہے
آوارہ و رسوا ہی سہی ہم منزل شب میں
اک صبح بہاراں سے مگر آنکھ لڑی ہے
کیا نقش ابھی دیکھیے ہوتے ہیں نمایاں
حالات کے چہرے سے ذرا گرد جھڑی ہے
کچھ دیر کسی زلف کے سائے میں ٹھہر جائیں
قابلؔ غم دوراں کی ابھی دھوپ کڑی ہے
لوگ کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زمانے میں محبت کم ہے
یہ اگر سچ ہے۔۔۔۔۔۔ تو اس میں حقیقت کم ہے
چند لوگوں نے اگر محل بنا رکھے ہیں
اس کا مطلب نہیں کہ شہر میں غربت کم ہے
اک ہم ہی نہ تھے جو یوں فراموش ہوۓ ورنہ
بھول جانے کی اس شخص کو عادت کم ہے
کیوں نہ ہم چھوڑ چلیں شہر کی رونق ساغر
ویسے بھی اب اسے اپنی ضرورت کم ہے
ﺁﺝ ﮐﻞ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ بھی ﮐﻢ ﻣﯿﺴﺮ ﮨﻮﮞ
ﺍﭘﻨﯽ ﻗﻠﺖ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮨﮯ مجھے
لوگ اِس دِل میں مانگتے ہیں جگہ
تُو جہاں اپنی مرضی کر گیا ہے
✍🏻عبداللہ ضریم
یہ تو نہیں کہوں گی کہ مر جائے میرے بن
ہنسنے میں بس کبھی کبھی دِقت ہوا کرے
فوزیہ شیخ
ہمیں جو مطلوب تھا کسی اور کو عطا ہوا
ہماری دعائیں کسی اور کے بخت سنوار گئیں
ندیم ناصر خان 🖤
حُضور آپ تو دل دے کے چیختے ہیں بہت
میں ایک شخص پہ جاں تک نِثار کرتا تھا
حسیب الحسن
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain