Damadam.pk
Mrwa_11's posts | Damadam

Mrwa_11's posts:

Mrwa_11
 

میں اپنی بے بسی کو بے حسی کا رنگ دیتا ہوں
میں ان باتوں پہ ہنستا ہوں که جن پہ رو نہیں سکتا۔

Mrwa_11
 

وہاں سمجھا ھے جاکر دل نے مفہومِ محبّت کو
سمجھنا اور سمجھانا .......جہاں بیکار ہوجائے

Mrwa_11
 

تُمہیں کھونے کا ڈَر کیسا
کہ کھویا اُن کو جاتا ہے
جو حَاصِل ہوں، میَسّر ہوں

Mrwa_11
 

تم کیا جانو کامل لوگوں
آدھی ذات کے پورے دکھ کو

Mrwa_11
 

تجھ سے زندگی کی بھیک مانگنے سے اچھا ہے
تیرے ہجر کی خودداری میں جیا جائے شان سے🙂

Mrwa_11
 

والعصر سے والناس کی تفسیر جہاں ہے
والفجر کے خوں ناک تسلسل کا زماں ہے
والّیلِ اِذا یَسر، صبح ِ غم کے کفن پر
مغرب سے نکلتے ہوئے سورج کا گماں ہے
احزاب کے باغی ہیں مہاراج و مسیحا
میخانہ ء ابلیس، پس ِ پردہ عیاں ہے
انسانَ لفی خُسر ہے آئینہ ء عالم
توحید کی گفتار پہ تکرار ِ بتاں ہے
لاحول ولا قوۃ افرنگ کا منشور
شاہوں کا وظیفہ ہے، یزیدوں کی اذاں ہے
کافر کیلیے جہد ِ مسلماں ہے قیامت
مسند کی مسلمانی فقط سود و زیاں ہے
شکوے پہ مرے فتوی لیے آئے ہیں واعظ
شرمندہ ء اطوار کوئی شیخ کہاں ھے

Mrwa_11
 

ہماری سوچ پہ کوئی نہ ہو سکا حاوی
کہ ہم نے صرف تمھارے ہی خواب دیکھے ہیں

Mrwa_11
 

خود بخود چھوڑ گئے ہیں تو چلو ٹھیک ہوا ۔
اتنے احباب کہاں ہم سے سنبھالے جاتے؟
ہم بھی غالب کی طرح کوچہ جاناں سے
نہ نکلتے تو کسی روز نکالے جاتے۔💔
محسن نقوی

Mrwa_11
 

شام کے وقت چراغوں سی جلائی ہوئی میں
گھپ اندھیروں کی منڈیروں پہ سجائی ہوئی میں
دیکھنے والوں کی نظروں کو لگوں سادہ ورق
تیری تحریر میں ہوں ایسے چھپا ئی ہوئی میں

Mrwa_11
 

اسے خبر تھی کہ جانا پڑے گا جاں سے مجھے
تبھی نکال دیا اپنی داستاں سے مجھے
میں پَر نہ ہونے کی تکلیف سے گذرتی ہوں
پکارتا ہے کوئی جب بھی آسماں سے مجھے
کومل جوئیہ

Mrwa_11
 

کاسہٕ حِرص کو دٌنیا بِھی نہیں بَھر سکتی
دِل بَسانا ہو تو اِک شَخص بہت ہوتا ہے.

Mrwa_11
 

خفا ہوئے تھے یہی سوچ کر منا لے گا
کسے خبر تھی وہ دنیا نئی بسا لے گا
میں کس بھروسے پہ آتا تو آتا محفل میں
یقین جب تھا کہ تو بھی نظر چرا لے گا
نبھانے والوں کے حصے میں بس خسارے ہیں
وہ بے وفا ہے چلو فائدہ اٹھا لے گا
میں اُس گھڑی تجھے شدت سے یاد آؤں گا
جہان سارا تو جس روز آزما لے گا
کوئی کہانی مکمل کبھی نہیں ہوتی
جہاں تو ہو گا مکمل تو کچھ گنوا لے گا
ترا یہ وہم ہے ابرک کہ آفتاب ہے تو
ہر اک دیا ترے کردار کو نبھا لے گا

Mrwa_11
 

مجھکو وار دیا گیا مجبوریوں کے نام پر
یوں پھینک دیا جیسے ،اک قرض اتارا ہو........

Mrwa_11
 

ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہے
وحشت بڑے دلچسپ دوراہے پہ کھڑی ہے
دل رسم و رہ شوق سے مانوس تو ہو لے
تکمیل تمنا کے لیے عمر پڑی ہے
چاہا بھی اگر ہم نے تری بزم سے اٹھنا
محسوس ہوا پاؤں میں زنجیر پڑی ہے
آوارہ و رسوا ہی سہی ہم منزل شب میں
اک صبح بہاراں سے مگر آنکھ لڑی ہے
کیا نقش ابھی دیکھیے ہوتے ہیں نمایاں
حالات کے چہرے سے ذرا گرد جھڑی ہے
کچھ دیر کسی زلف کے سائے میں ٹھہر جائیں
قابلؔ غم دوراں کی ابھی دھوپ کڑی ہے

Mrwa_11
 

لوگ کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زمانے میں محبت کم ہے
یہ اگر سچ ہے۔۔۔۔۔۔ تو اس میں حقیقت کم ہے
چند لوگوں نے اگر محل بنا رکھے ہیں
اس کا مطلب نہیں کہ شہر میں غربت کم ہے
اک ہم ہی نہ تھے جو یوں فراموش ہوۓ ورنہ
بھول جانے کی اس شخص کو عادت کم ہے
کیوں نہ ہم چھوڑ چلیں شہر کی رونق ساغر
ویسے بھی اب اسے اپنی ضرورت کم ہے

Mrwa_11
 

ﺁﺝ ﮐﻞ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ بھی ﮐﻢ ﻣﯿﺴﺮ ﮨﻮﮞ
ﺍﭘﻨﯽ ﻗﻠﺖ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮨﮯ مجھے

Mrwa_11
 

لوگ اِس دِل میں مانگتے ہیں جگہ
تُو جہاں اپنی مرضی کر گیا ہے
✍🏻عبداللہ ضریم

Mrwa_11
 

یہ تو نہیں کہوں گی کہ مر جائے میرے بن
ہنسنے میں بس کبھی کبھی دِقت ہوا کرے
فوزیہ شیخ

Mrwa_11
 

ہمیں جو مطلوب تھا کسی اور کو عطا ہوا
ہماری دعائیں کسی اور کے بخت سنوار گئیں
ندیم ناصر خان 🖤

Mrwa_11
 

حُضور آپ تو دل دے کے چیختے ہیں بہت
میں ایک شخص پہ جاں تک نِثار کرتا تھا
حسیب الحسن