مجھے شوق تھا تیرے ساتھ کا جو نہ مل سکا، چلو خیر ہے، میری زندگی بھی گزر گئی تُو بھی جا چکا، چلو خیر ہے، یہ جو بے بسی ہے چار سُو اور الجھے الجھے سے طور ہیں تجھے سب خبر ہے مگر تُو کیوں؟ نہ سمجھ سکا ، چلو خیر ہے، کبھی تم کو ضد تھا کہ میں ملوں کبھی میں بضد تھی کہ تُو ملے یونہی دھیرے دھیرے ختم ہوا یہ بھی سلسلہ ، چلو خیر ہے ۔ چلو خیر ہے ۔乂❤‿❤乂
عجیب لوگ تھے وہ تتلیاں بناتے تھے سمندروں کے لیے مچھلیاں بناتے تھے میرے قبیلے میں تعلیم کا رواج نہ تھا میرے بزرگ مگر تختیاں بناتے تھے وہی بناتے تھے لوہے کو توڑ کر تالا پھر اُس کے بعد وہی چابیاں بناتے تھے فضول وقت میں وہ سارے شیشہ گر مل کر سہاگنوں کے لیے چوڑیاں بناتے تھے ہمارے گاؤں میں دو چار ہندو درزی تھے نمازیوں کے لیے ٹوپیاں بناتے تھے۔۔۔✨
خود پہ جب دشت کی وحشت کو مسلط کروں گا اس قدر خاک اڑاؤں گا ، قیامت کروں گا ہجر کی رات مری جان کو آئی ہوئی ہے بچ گیا تو میں محبت کی مذمت کروں گا تیری یادوں نے اگر ہاتھ بٹایا میرا اپنے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی مرمت کروں گا جس کی چھاؤں میں تجھے پہلے پہل دیکھا تھا میں اسی پیڑ کے نیچے تیری بیعت کروں گا اب ترے راز سنبھالے نہیں جاتے مجھ سے میں کسی روز امانت میں خیانت کروں گا بس اسی ڈر سے کہ اعصاب نہ شل ہو جائیں میں اسے ہاتھ لگانے میں نہ عجلت کروں گا لیلتہ القدر گزاروں گا کسی جنگل میں نور برسے گا درختوں کی امامت کروں گا تہذیب حافی
عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتا کبھی جان صدقے ہوتی کبھی دل نثار ہوتا کوئی فتنہ تا قیامت نہ پھر آشکار ہوتا ترے دل پہ کاش ظالم مجھے اختیار ہوتا جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا تمہیں منصفی سے کہہ دو تمہیں اعتبار ہوتا غم عشق میں مزا تھا جو اسے سمجھ کے کھاتے یہ وہ زہر ہے کہ آخر مے خوش گوار ہوتا یہ مزہ تھا دل لگی کا کہ برابر آگ لگتی نہ تجھے قرار ہوتا نہ مجھے قرار ہوتا نہ مزا ہے دشمنی میں نہ ہے لطف دوستی میں کوئی غیر غیر ہوتا کوئی یار یار ہوتا ترے وعدے پر ستم گر ابھی اور صبر کرتے اگر اپنی زندگی کا ہمیں اعتبار ہوتا یہ وہ درد دل نہیں ہے کہ ہو چارہ ساز کوئی اگر ایک بار مٹتا تو ہزار بار ہوتا گئے ہوش تیرے زاہد جو وہ چشم مست دیکھی مجھے کیا الٹ نہ دیتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں صحرا میرا چہرہ ہے تو سمندر تیری آنکھیں پھر کون بھلا دادِ تبسم انھیں دے گا روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تیری آنکھیں بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن کھلتی ہیں بہت دل میں اُتر کر تیری آنکھیں اب تک میری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تیری آنکھیں ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں پھر اوڑھ نہ لیں خواب کی چادر تیری آنکھیں یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسن وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تیری آنکھیں
کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو نہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے کہیں جگہ نہ رہی میرے آشیانے کو مری لحد پہ پتنگوں کا خون ہوتا ہے حضور شمع نہ لایا کریں جلانے کو سنا ہے غیر کی محفل میں تم نہ جاؤ گے کہو تو آج سجا لوں غریب خانے کو دبا کے قبر میں سب چل دیئے دعا نہ سلام ذرا سی دیر میں کیا ہو گیا زمانے کو اب آگے اس میں تمہارا بھی نام آئے گا جو حکم ہو تو یہیں چھوڑ دوں فسانے کو قمرؔ ذرا بھی نہیں تم کو خوف رسوائی چلے ہو چاندنی شب میں انہیں بلانے کو *استاد قمر جلالوی*
شام ہوتے ہی چراغوں کو جلانے والے لوٹ کے آتے نہیں چھوڑ کے جانے والے تُو مری آنکھ کوبھایا ہےمرے دل کو نہیں ترے اطوار تو لگتے ہیں زمانے والے عمر بھر تجھ کو مرا خواب نہیں آئے گا وصل کی شام مرا ہجر منانے والے یعنی کچھ روز تجھے چھوڑ کے میں بھی خوش تھا مجھ کو یہ بات بتاتے ہیں بتانے والے زندگی آج تجھے چھوڑ دیا ہے ہم نے ہم نہیں آج ترے ناز اٹھانے والے میں نے دیکھی ترےھاتھوں کی مہارت لیکن وہ ترے پاؤں ترا چاک گھمانے والے شوقِ نظٓارہ لئے آنکھ کدھر جائے گی حُسن والے ہیں ترے شہر سے جانے والے یہ بھی ممکن ہے ہوا کوئی تماشا کر دے ہم ترے نام کی شمعیں ہیں جلانے والے
ہَوا کے رخ پہ، رہِ اعتبار میں رکھا بس اِک چراغ کُوئے انتظار میں رکھا عجب طلسمِ تغافل تھا جس نے دیر تلک مِری اَنا کو بھی کنج خمار میں رکھا اڑا دیے خس و خاشاکِ آرزو سرِ راہ بس ایک دِل کو تِرے اِختیار میں رکھا فروغِ موسمِ گل پیش تھا سو میں نے بھی خزاں کے زخم کو دشتِ بہار میں رکھا نجانے کون گھڑی تھی کہ اپنے ہاتھوں سے اٹھا کے شیشۂ جاں اِس غبار میں رکھا یہ کِس نے مثلِ مہ و مہر اپنی اپنی جگہ وصال و ہجر کو ان کے مدار میں رکھا لہو میں ڈولتی تنہائی کی طرح خاورؔ تِرا خیال دِلِ بے قرار میں رکھا
قرار چھین لیا بے قرار چھوڑ گئے بہار لے گئے ، یادِ بہار چھوڑ گئے ہماری چشمِ حزیں کا خیال کچھ نہ کیا وہ عمر بھر کے لئے اشکبار چھوڑ گئے جسے سمجھتے تھے اپنا وہ اتنی مدت سے اسی کو آج وہ بیگانہ وار چھوڑ گئے رگوں میں اِک تپش درد کار جاگ اُٹھی دلوں میں اک خلشِ انتظار چھوڑ گئے ہوائے شام سے آنے لگی صدائے فغاں فضائے شوق کو ماتم گُسار چھوڑ گئے نشاطِ محفلِ لیل و نہار لُوٹ لیا نصیب میں غمِ لیل و نہار چھوڑ گئے گھٹائیں چھائی ہیں، ساون ہے مینہ برستا ہے وہ کس سمے میں ہمیں اشکبار چھوڑ گئے دلِ حزیں ہے اب اور عہدِ رفتہ کا ماتم چمن کے سینے پہ داغِ بہار چھوڑ گئے دلِ حزیں ہے اب اور عہدِ رفتہ کا ماتم چمن کے سینے پہ داغ بہار چھوڑ گئے چھڑا کے دامنِ اُمید دل کے ہاتھوں سے سوادِ یاس میں ماتم گسار چھوڑ گئے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain