پرکھنا مت ،پرکھنے سے کوئی اپنا نہیں رہتا کسی بھی آئینے میں دیر تک چہرہ نہیں رہتا بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلے رکھنا جہاں دریا سمندر سے ملا، دریا نہیں رہتا ہزاروں شعر میرے سو گئے کاغذ کی قبروں میں عجب ماں ہوں کوئی بچہ میرا زندہ نہیں رہتا تمہارا شہر تو بالکل نئے انداز والا ہے ہمارے شہر میں بھی اب کوئی ہم سا نہیں رہتا محبت ایک خوشبو ہے ہمیشہ ساتھ چلتی ہے کوئی انسان تنہائی میں بھی تنہا نہیں رہتا کوئی بادل ہرے موسم کا پھر اعلان کرتا ہے خزاں کے باغ میں جب ایک بھی پتہ نہیں رہتا
اونچائیوں سے ہم ترے معیار پر گرے جیسے کوئی پہاڑ کسی غار پر گرے دو تین بار عشق میں ناکامیاں ہوئیں دو تین رنگ ایک ہی دیوار پر گرے اک رات کہکشاں مری آغوش میں رہی اور سب ستارے ٹوٹ کے دیوار پر گرے اس رات کتنی دیر اسے سوچتا رہا اس رات کتنے پھول مری کار پر گرے